
بھاگلپور، 31 اکتوبر (ہ س)۔ ضلع کے کہلگاؤں میں این ایچ-80 پر واقع تاریخی کنواں نالہ پل انتہائی خستہ حالی کے باعث عوام کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ 1960 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا یہ پل مسلسل بھاری گاڑیوں کے دباؤ اور طویل عرصے سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ مقامی لوگوں نے اسے ’’موت کا جھولا‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔
ممکنہ بڑے حادثے کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے پل پر آمدورفت مکمل طور پر بند کر دی ہے، تاہم کسی مؤثر متبادل راستے کا انتظام نہ ہونے سے علاقے کی بڑی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ تقریباً تین ماہ سے پل بند ہونے کے باعث روزانہ سفر کرنے والوں، اسکولی بچوں، مریضوں اور تاجروں کو بھاگلپور ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنے کے لیے 15 سے 20 کلومیٹر کا اضافی چکر لگانا پڑ رہا ہے۔
عوام میں اس بات پر بھی شدید ناراضی ہے کہ حال ہی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے این ایچ-80 کی تعمیر نو کے باوجود اس پر واقع کئی دہائیوں پرانے اور کمزور پل کی مرمت یا نئے سرے سے تعمیر کی جانب خاطر خواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ مقامی لوگ اور سیاسی حلقے اسے انتظامی اور محکمہ جاتی لاپروائی قرار دے رہے ہیں۔
پل کی بندش اور مرمتی کام میں تاخیر کے خلاف عوامی تحریک مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما اور ضلع پریشد رکن جناردن آزاد سب ڈویژنل دفتر کے احاطے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں، جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب مشتعل شہریوں نے پل کو جلد بحال کرنے اور عوامی مفاد میں فوری اقدامات کے مطالبے کے ساتھ سب ڈویژنل دفتر سے کنواں پل تک ایک بڑے مشعل جلوس کا انعقاد کیا۔ تحریک میں شامل لوگوں کا مطالبہ ہے کہ بھاری گاڑیوں کے لیے پل کی مکمل مرمت ہونے تک حفاظتی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم دو پہیہ اور ہلکی چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت دی جائے۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو روزانہ کی پریشانی سے نجات دلانے کے لیے فوری طور پر ایک قابل عمل متبادل راستہ تیار کیا جائے۔ جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی سرحد سے جڑے اس اہم راستے کے متاثر ہونے سے علاقے کی تجارتی سرگرمیاں اور خاص طور پر پتھر کی صنعت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ محکمہ پل کے بیئرنگ اور ایکسپینشن جوائنٹس کی مرمت میں مصروف ہے، لیکن کام کی سست رفتار نے عوامی ناراضی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اب یہ معاملہ صرف ایک خستہ حال پل تک محدود نہیں رہا، بلکہ انتظامی جواب دہی، عوامی سلامتی اور بنیادی سہولیات کے حق کا اہم مسئلہ بن چکا ہے۔علاقے کے لوگوں کی نظریں اب انتظامیہ پر لگی ہیں کہ وہ کب تک اس اہم رابطہ راستے کو محفوظ طریقے سے بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan