رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد اعظم خان کو ای ڈی نے حراست میں لیا، حامیوں نے جم کر نعرے بازی کی
رام پور، 31 اکتوبر (ہ س)۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قدآور رہنما اعظم خان کو ہفتہ کے روز رام پور ضلع جیل سے رہائی کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات تھی۔ رہائی کے بعد ا
رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد اعظم خان کو ای ڈی نے حراست میں لیا، حامیوں نے جم کر نعرے بازی کی


رام پور، 31 اکتوبر (ہ س)۔

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قدآور رہنما اعظم خان کو ہفتہ کے روز رام پور ضلع جیل سے رہائی کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات تھی۔ رہائی کے بعد ای ڈی کی جانب سے انہیں حراست میں لیے جانے پر سماج وادی پارٹی کے حامیوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

29 اکتوبر کو دو پین کارڈ سے متعلق معاملے میں ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی ضمانت کی عرضی منظور کر لی گئی تھی۔ جمعہ کے روز کاغذی کارروائی مکمل ہوئی اور ہفتہ کی شام انہیں رام پور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ ان کی رہائی کی خبر ملتے ہی بڑی تعداد میں حامی جیل کے باہر جمع ہوگئے تھے۔

تاہم اعظم خان کی رہائی سے چند منٹ قبل ہی ای ڈی کی ٹیم بھاری پولیس فورس کے ساتھ رام پور جیل پہنچ گئی تھی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد ای ڈی کے افسران نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ اس دوران اعظم خان اور افسران کے درمیان کافی دیر تک بات چیت بھی ہوئی۔ کشیدگی اور گہماگہمی کے ماحول میں ای ڈی کی ٹیم اعظم خان کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ روانہ ہوگئی۔

اس کارروائی کے دوران سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس درمیان اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔

یہ کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں کی گئی ہے، جس کی جانچ ابھی جاری ہے۔ افسران کے مطابق اعظم خان کو یکم نومبر کو غازی آباد کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande