امریکہ نے یوکرین کو 2.1 ارب ڈالر کے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کو منظوری دی
واشنگٹن ڈی سی، 31 اکتوبر (ہ س)۔ امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائل اور ان سے متعلق آلات فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اس سودے کی تخمینی قیمت 2.1 ارب ڈالر ہے۔ خاص ب
امریکی پیٹریاٹ میزائل؛ فائل فوٹو


واشنگٹن ڈی سی، 31 اکتوبر (ہ س)۔ امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائل اور ان سے متعلق آلات فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اس سودے کی تخمینی قیمت 2.1 ارب ڈالر ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس خریداری کے تمام اخراجات یوکرین کے اتحادی اور شراکت دار ممالک برداشت کریں گے۔ تاہم، میزائلوں کی ترسیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو اور امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک (اے بی سی) نے امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ، یوکرین اس سودے کے لیے کینیڈا، جرمنی اور ناروے سے ملنے والی مالی امداد کا استعمال کرے گا۔ یہ فنڈنگ امریکہ کے ’’جمپ اسٹارٹ‘‘ (’جوائنٹ یوکرین ملٹی نیشنل پروگرام – سروسز، ٹریننگ اینڈ آرٹیکلز ریپڈ ٹائم لائن‘) پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے ’یوکرین سپورٹ لون‘ سے بھی ادائیگی کی جائے گی۔ محکمہ نے واضح کیا کہ اس سودے میں امریکہ کا اپنا کوئی فنڈ شامل نہیں ہے۔ اس اسلحہ سودے میں امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔ پیکیج میں 500 پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائلوں کے ساتھ خفیہ اور عام اسپیئر پارٹس، لاجسٹکس اور پروگرام سپورٹ بھی شامل ہیں۔

پی اے سی-3 ایم ایس ای انٹرسیپٹر کو تیز رفتار سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی مراکز اور شہری بنیادی ڈھانچے پر مسلسل ہو رہے میزائل حملوں کے درمیان ان انٹرسیپٹرز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ زیلینسکی نے روس کے بڑھتے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ سے جلد از جلد میزائلوں کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یوکرین کے لیے یہ منظوری اہم ہے، لیکن اسے ان میزائلوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاملے سے جڑے افسران کے مطابق، منظور شدہ میزائلوں کی تیاری ابھی نہیں ہوئی ہے اور ان کی ترسیل 2030 کے ابتدائی سالوں میں ہونے کا امکان ہے۔ یوکرین کی وزارت دفاع امریکی محکمہ دفاع سے جلد ترسیل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کیف چاہتا ہے کہ امریکہ اپنے موجودہ میزائل ذخائر سے کچھ انٹرسیپٹر فوری طور پر دستیاب کرائے اور بعد میں ان کی جگہ نئے میزائل شامل کر لے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے حال ہی میں کہا تھا کہ یوکرین کو اس سال امریکہ سے ہر مہینے اوسطاً 12 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر ملے ہیں، جبکہ روس کی جانب سے داغے جانے والے تقریباً 150 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے اسے ہر مہینے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز کی ضرورت ہے۔

زیلینسکی کے مطابق، یوکرین تقریباً ایک ماہ سے پیٹریاٹ اور این اے ایس اے ایم ایس ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے میزائلوں کی فراہمی سے متعلق امریکی منظوری کا انتظار کر رہا تھا۔

یوکرین میں روسی حملوں کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل جا رہی ہیں۔ افسران کے مطابق، جمعرات کو ڈنیپرو شہر کے ایک ہجوم والے ریلوے پلیٹ فارم پر روسی ڈرون حملے میں کم از کم 14 افراد کی موت ہوئی۔ اس کے علاوہ دو دیگر شہروں میں دن کے وقت ہوئے حملوں میں پانچ افراد کی جان گئی، جبکہ کیف میں میزائل حملے میں ایک شخص کی موت ہوئی۔

امریکہ نے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کی سمت میں بھی اقدامات کیے ہیں۔ جولائی میں امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی تیاری کے لیے 58.6 ارب ڈالر تک کا معاہدہ کیا تھا۔

کمپنی کے مطابق، اس معاہدے سے 2030 کے اختتام تک پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائلوں کی پیداواری صلاحیت تین گنا کرنے کا ہدف پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی آرکنساس کے کیمڈن میں واقع پلانٹ میں ملازمین کی تعداد 1,200 سے بڑھا کر تقریباً 1,850 کرنے کا منصوبہ ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ پیٹریاٹ پی اے سی-3 انٹرسیپٹر کی سالانہ پیداوار بڑھا کر 2,000 میزائلوں تک پہنچائے گی۔

یورپی یونین کا یوکرین سپورٹ لون پروگرام 27-2026 کے لیے 90 ارب یورو تک کی مالی امداد فراہم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس میں سے 60 ارب یورو یوکرین کی دفاعی ضروریات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یورپی کمیشن نے اس رقم کا استعمال امریکہ میں تیار کردہ پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری کے لیے کرنے کی منظوری دی ہے۔

امریکہ کی جانب سے اتحادی ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی اور ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث اس کے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے پر بھی دباؤ بڑھنے کے خدشات ہیں۔ ایسے میں یوکرین کو فوری طور پر ایئر ڈیفنس میزائل فراہم کرنا اور مستقبل کی سپلائی یقینی بنانا امریکی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande