
جموں, 31 اکتوبر (ہ س): لداخ میں 21 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر کرگل میں نیا سیاسی اتحاد سامنے آیا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے جمعیت علمائے اثنا عشریہ کرگل کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی کی تمام 17 نشستوں پر مشترکہ طور پر امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کانگریس اس اتحاد کا حصہ نہیں ہوگی۔انتخابی سمجھوتے کے تحت دونوں تنظیمیں باہمی مشاورت سے امیدواروں کا انتخاب کریں گی اور تمام امیدوار نیشنل کانفرنس کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں گے۔
دونوں فریقین نے امیدواروں کے انتخاب میں باہمی تعاون اور اتفاق رائے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔انتخابی شیڈول کے مطابق کرگل میونسپل کمیٹی کے 17 اور لیہہ میونسپل کمیٹی کے 21 وارڈوں میں انتخابات ہوں گے۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 5 نومبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ انتخابی عمل 30 نومبر تک مکمل کیا جائے گا۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان کے مطابق پارٹی اور کانگریس کے درمیان سابقہ سیاسی اتحاد لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کرگل کی گزشتہ مدت تک محدود تھا، جو 21 اکتوبر کو پانچویں کونسل کی مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے 12 اور کانگریس نے 10 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ بی جے پی اور آزاد امیدواروں نے دو، دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
کرگل میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات اکتوبر 2018 میں ہوئے تھے۔ اس وقت میونسپل کمیٹی میں 13 وارڈ تھے، جن میں کانگریس نے پانچ نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ آٹھ نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے اس وقت آرٹیکل 35-اے سے متعلق اپنے اعتراضات کے باعث انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / محمد اصغر