
کٹھمنڈو، 31 اکتوبر (ہ س): نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو میں نصف شب کے دوران کئی میڈیا اداروں کے دفاتر پر پولیس نے چھاپے مارے، جس کے بعد تقریباً نصف درجن صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
سب سے پہلے پولیس انام نگر واقع آن لائن نیوز پورٹل ’دیو پوسٹ‘ کے دفتر پہنچی۔ پولیس نے اس نیوز پورٹل کے چیف ایڈیٹر سدھیپ بشوکرما اور نیوز کوآرڈینیٹر مدن ڈھونگانا کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
پورٹل میں کام کرنے والے ایک صحافی کے مطابق، سادہ لباس میں ملبوس چار پولیس اہلکار دفتر پہنچے تھے۔ صحافی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے کہا کہ وہ بشوکرما اور ڈھونگانا کو بات چیت کے لیے اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں۔
یہ واقعہ جمعہ کے روز کئی میڈیا اداروں میں پولیس کی کارروائی اور متعدد صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کے درمیان پیش آیا ہے۔
پولیس نے ’نیپال پریس‘ کے بشومنی سوبیدی کو ان کے دفتر میں چھاپہ مار کر نیوز روم سے حراست میں لے لیا۔ اسی طرح سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار بجلی بازار واقع ایک میڈیا ادارے کے دفتر پہنچے اور ’موٹیویٹ نیوز‘ کے صحافی شوبھراج برال کو بھی حراست میں لے لیا۔
’ڈی این اے خبر‘ کے چیف ایڈیٹر دھیرج بسنیٹ کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ پورٹل میں کام کرنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ دوپہر کے وقت بسنیٹ کو کاٹھمنڈو پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن آفس، ٹیکو سے فون آیا تھا۔ انہیں ای-سیوا سے متعلق مبینہ گھوٹالے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے دفتر بلایا گیا تھا۔
صحافی کے مطابق، بسنیٹ دفتر پہنچے، لیکن بعد میں انہیں بتایا گیا کہ انہیں وہیں رکنا ہوگا۔
دریں اثنا، سادہ لباس میں ملبوس پانچ پولیس اہلکار روزنامہ ’نیا پتریکا‘ کے دفتر پہنچے۔ وہ وہاں کام کرنے والے نامہ نگار نواراج مینالی کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔
ایڈیٹر کھگیندر پنت کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ انہیں مینالی کو سائبر بیورو لے جانا ہے۔ پنت نے کہا کہ پولیس نے گرفتاری کا وارنٹ نہیں دکھایا اور انہیں دفتر سے زبردستی اٹھا کر لے گئی۔
اسی طرح یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ پولیس کی ایک ٹیم ’دیو پوسٹ‘ کے دفتر بھی پہنچی تھی۔ اس پورٹل نے ایک خبر شائع کی تھی، جس میں چیف جسٹس سے متعلق خبر کے حوالے سے اسے دھمکیاں ملنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ پولیس نے ’دیو پوسٹ‘ کے ایڈیٹر اور ایک صحافی کو بھی اپنی تحویل میں لے کر سائبر بیورو منتقل کر دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے نصف شب کے دوران کی گئی اس کارروائی کے بعد حکمراں جماعت اور اپوزیشن جماعتوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد