

2024 کے انتخابات کی قانونی حیثیت پر بھی سوال
نئی دہلی، 31 اکتوبر (ہ س)۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد نے ہفتہ کے روز علامتی ’عوامی مواخذے‘ کی کارروائی کرتے ہوئے چھ الزامات پر مشتمل قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کرلی۔ کانگریس کی قیادت میں منعقدہ اس پروگرام میں 19 سیاسی جماعتوں کے 215 ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، جو ملک کے کل ووٹروں کا تقریباً 15 فیصد ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن ووٹروں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا، اب ان کے نام حذف کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا الیکشن کمیشن خود ان انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہا ہے؟ راہل نے کہا کہ گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار نہیں رہ پائیں گے اور ان کے کردار کے حوالے سے اپوزیشن کے پاس کافی شواہد موجود ہیں۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی 10 راجا جی مارگ واقع رہائش گاہ پر منعقدہ یہ کارروائی تین گھنٹے 23 منٹ تک جاری رہی۔ اس کی صدارت لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے کی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کی طرز پر منعقدہ اس فرضی پارلیمنٹ میں کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چھ الزامات پر مشتمل قرارداد پیش کی، جسے وہاں موجود ارکانِ پارلیمنٹ نے اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اس طرح باغیچے میں بیٹھ کر کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، کیونکہ تمام اداروں کے دروازے اس کے لیے بند ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعے حذف کیے گئے 13.3 کروڑ ووٹر ملک کے ہر سات ووٹروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے مطابق، ان میں سے کئی لوگوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دیا تھا اور ان انتخابات میں جیت کا فرق صرف تین فیصد تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اب یہ کہہ رہا ہے کہ 15 فیصد ووٹروں کو ووٹ نہیں ڈالنا چاہیے تھا۔
راہل نے کہا کہ ان ووٹروں کے نام حذف کرکے 2024 کے انتخابات کو قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
راہل نے کہا کہ یہ محض باغیچے میں ارکانِ پارلیمنٹ اور عام شہریوں کی ایک میٹنگ نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار ہے، جنہوں نے ملک کے عوام کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار جیسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ جس ادارے کے تحفظ کا حلف لیتے ہیں، اس کی آڑ میں ہمیشہ نہیں چھپ سکتے۔ ایک دن انہیں ملک کے عوام کے نمائندوں کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
راہل نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی تمام انکشافات کے باوجود گیانیش کمار کو عہدے پر برقرار رکھنے پر بضد رہتی ہے تو اس کی منشا واضح ہوجائے گی۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے کھرگے نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی براہِ راست ہدایات پر الیکشن کمیشن چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی گیانیش کمار سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کی روح کے مطابق آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طریقے سے کام کرے، تاکہ عام شہریوں کا اس پر اعتماد برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات، خواتین اور نوجوانوں کے حقِ رائے دہی کو دہلی میں بیٹھے کسی شخص کے ذریعے کمپیوٹر کی مدد سے خاموشی کے ساتھ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرکے ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کھرگے نے دعویٰ کیا کہ تقریباً سات ماہ پہلے اپوزیشن کے 193 ارکانِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے نوٹس دیے تھے، لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہار میں ایس آئی آر کے ذریعے ووٹوں کی چوری کا پہلا تجربہ کیا گیا اور بعد میں اسے ملک بھر میں بی جے پی مخالف ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے نافذ کیا گیا۔
کھرگے نے واضح کیا کہ اپوزیشن مردہ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے کی وکالت نہیں کر رہی ہے، بلکہ اس کا مطالبہ ہے کہ حقیقی اور اہل ووٹروں کے نام محفوظ رکھے جائیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ یہ عوامی مواخذہ ایک علامتی سیاسی کارروائی تھی۔ اس میں منظور کی گئی قرارداد چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی عمل نہیں ہے اور نہ ہی اس سے وہ خود بخود عہدے سے برطرف ہوجاتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئین میں مقرر کردہ پارلیمانی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
انڈیا اتحاد اتوار، یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ایک ریلی منعقد کرے گا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ریلی میں 10 لاکھ لوگوں کی شرکت کی تیاری کی گئی ہے۔ اتحاد کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ