ہندوستانی جیل میں تین سال کی سزا کاٹنے کے بعد 10 بنگلہ دیشی خواتین وطن واپس لوٹیں
ڈھاکہ، 25 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستان کی جیل میں تین سال کی سزا کاٹنے کے بعد 10 بنگلہ دیشی خواتین اپنے ملک واپس لوٹ آئی ہیں۔ ان خواتین کو ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع بیناپول بین الاقوامی چیک پوسٹ کے ذریعے جمعرات کی رات بنگلہ دیشی حکام کے سپر
گرفتاری کی علامتی تصویر


ڈھاکہ، 25 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستان کی جیل میں تین سال کی سزا کاٹنے کے بعد 10 بنگلہ دیشی خواتین اپنے ملک واپس لوٹ آئی ہیں۔ ان خواتین کو ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع بیناپول بین الاقوامی چیک پوسٹ کے ذریعے جمعرات کی رات بنگلہ دیشی حکام کے سپرد کیا گیا۔ تمام خواتین تقریباً چار سال قبل انسانی اسمگلروں کی مدد سے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئی تھیں۔

بنگلہ دیش کے انگریزی روزنامہ اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے بیناپول امیگریشن پولیس کے انچارج افسر سیف الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ، ہندوستانی امیگریشن پولیس نے رات تقریباً 8.30 بجے مغربی بنگال کے پیٹراپول میں ان خواتین کو بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کیا۔ اس دوران ہندوستان کی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) اور دونوں ممالک کی پولیس کے افسران موجود رہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ یہ خواتین بنگلہ دیش کے نریل، جیسور اور فرید پور اضلاع کے مختلف علاقوں کی رہنے والی ہیں۔ تقریباً چار سال قبل انسانی اسمگلروں کے ذریعے وہ ستکھیرا سرحد سے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئی تھیں۔ ہندوستان آنے کے بعد تمام خواتین مہاراشٹر کے پونے شہر چلی گئیں، جہاں انہوں نے الگ الگ گھروں میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ تاہم، ہندوستان میں غیر قانونی طور پر رہنے کے الزام میں ہندوستانی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد عدالت نے ہندوستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے معاملے میں ان خواتین کو تین سال کی قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد انہیں پونے کی ایک سینٹرل جیل میں رکھا گیا۔

سزا مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں اور ضروری قانونی کارروائیوں کو پورا کیا گیا۔ اس کے بعد ہندوستانی امیگریشن حکام نے خصوصی سفری اجازت نامے (اسپیشل ٹریول پرمٹ) کے تحت تمام 10 خواتین کو بنگلہ دیش واپس بھیج دیا۔

بیناپول میں امیگریشن کی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد رات تقریباً 11 بجے خواتین کو بیناپول پورٹ پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے بعد ’جسٹس اینڈ کیئر‘ نامی غیر سرکاری تنظیم نے انہیں اپنی دیکھ بھال میں لے لیا۔ تنظیم کے عہدیداران تمام خواتین کو جیسور میں واقع اپنے شیلٹر ہوم لے گئے ہیں۔ یہاں ان کے قیام اور دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے گا۔ ساتھ ہی متعلقہ حکام کی مدد سے انہیں ان کے اہل خانہ سے ملانے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ تین سال کی قید کی سزا پوری کرنے کے بعد ان خواتین کی وطن واپسی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ضروری قانونی اور سفارتی کارروائیوں کے ذریعے ممکن ہو سکی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande