
واشنگٹن،30اکتوبر(ہ س)۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ تک پہنچانے کے الزام میں امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف میں اہم عسکری منصوبہ بندی کی ذمہ داری سنبھالنے والے جنرل کی برطرفی کو خفیہ معلومات کے افشا ہونے کے معاملے میں جاری تحقیقات کی ایک بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق بریٹ سلویا کے خلاف یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پینٹاگون میں خفیہ معلومات کے افشا ہونے کے واقعات کی تحقیقات جاری تھیں۔ امریکی وزیرِ دفاع نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کر رکھی ہے، جو حساس معلومات ذرائع ابلاغ تک پہنچانے کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ فوجی افسران کے پولی گراف ٹیسٹ بھی لیے جا رہے ہیں۔پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ بریٹ سلویا خفیہ معلومات افشا کرنے سے متعلق تین پولی گراف ٹیسٹ میں ناکام رہے۔ عہدیدار کے مطابق اسی بنیاد پر قومی سلامتی کے تحفظ کے پیش نظر انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، اس الزام اور پولی گراف ٹیسٹ کے نتائج کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
بریٹ سلویا جوائنٹ اسٹاف کے ڈائریکٹوریٹ برائے اسٹریٹجی، پلانز اینڈ پالیسی کے سربراہ تھے۔ یہ شعبہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کو عسکری حکمتِ عملی، دفاعی منصوبہ بندی اور فوجی پالیسی کے معاملات میں مشاورت فراہم کرتا ہے۔ سلویا اس سے قبل امریکی فوج کے 101ویں ایئر بورن ڈویژن کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق بریٹ سلویا کے خلاف امریکی فضائیہ کے دفتر برائے خصوصی تحقیقات نے تفصیلی جانچ کی ہے۔ معاملے کو ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے امریکی محکمہ? انصاف کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کی نشاندہی کرنے کا عزم محض بیان تک محدود نہیں بلکہ اس پر عملی طور پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پینٹاگون حساس معلومات کے تحفظ اور قومی سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی جاری رکھے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan