
نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہ س)۔
وزیر اعظم نریندر مودی آج سے گجرات کے دو روزہ دورے پر رہیں گے۔ اس دوران وہ بناس کانٹھا میں 14 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے اور انہیں قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) کی 24ویں قسط کے طور پر ملک بھر کے کسانوں کے کھاتوں میں تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے جاری کریں گے۔
وزیر اعظم دفتر کی جانب سے گجرات دورے کے موقع پر جاری بیان کے مطابق، مودی 30 اکتوبر کو بناس کانٹھا میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی اور اِن وٹرو فرٹیلائزیشن (ای ٹی۔ آئی وی ایف)لیبارٹری کے ساتھ بھارت گئوونش افزائش و تحقیق مرکز کا دورہ کریں گے۔ اس کے بعد وہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، دو ریل خدمات کو ہری جھنڈی دکھائیں گے اور ایک عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔
وزیر اعظم بناس کانٹھا کے بھلڑی میں قائم بھارت گئوونش افزائش و تحقیق مرکز کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ 127 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ مرکز گائے کی نسلوں میں بہتری، جینیاتی ارتقا اور افزائش نسل کی جدید تکنیکوں کو فروغ دے گا۔ کانکریج نسل کے مویشیوں کے لیے یہ ملک کا اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا۔ اس کے ذریعے نسل کی بہتری کی رفتار 10 سے 20 گنا تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیر اعظم بناس ڈیری کے تحت تھراد اور رادھن پور میں قائم ہونے والے دو بائیو سی این جی پلانٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ ان پلانٹس میں روزانہ بالترتیب 75 اور 100 میٹرک ٹن گوبر کی پروسیسنگ کی صلاحیت ہوگی۔
مودی احمد آباد میٹرو کے دوسرے مرحلے کے تحت ہوائی اڈے اور گفٹ سٹی تک توسیعی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ہوائی اڈے تک توسیعی لائن 6 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہوگی، جس پر پانچ اسٹیشن بنائے جائیں گے، جبکہ گفٹ سٹی تک توسیعی لائن 3.3 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہوگی اور اس پر تین اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم تقریباً 2600 کروڑ روپے کی لاگت سے احمد آباد۔مہسانہ سڑک (ریاستی شاہراہ نمبر 41) کو چار لین سے آٹھ لین میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے علاوہ گجرات میں بچوں کے لیے سازگار 4030 نئے آنگن واڑی مراکز کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور مکمل ہوچکے 361 مراکز کا افتتاح کریں گے۔ تقریباً 800 کروڑ روپے کے اس منصوبے سے چار لاکھ سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔مودی زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ کے تحت مکمل ہونے والے 521 منصوبے بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان منصوبوں پر تقریباً 4950 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ان میں کولڈ اسٹوریج، گودام، سائیلوز، پولی ہاؤس، گرین ہاؤس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ سے متعلق سہولیات شامل ہیں۔وہ سناڈر میں آلو کی پروسیسنگ کے کارخانے کی توسیع کا افتتاح کریں گے، جبکہ پالن پور میں انتہائی بلند درجہ حرارت پر تیار ہونے والی مصنوعات کے لیے خودکار ذخیرہ اور نکاسی کے نظام کا آغاز بھی کریں گے۔
وزیر اعظم سابرمتی۔وارانسی ایکسپریس اور مہسانہ۔بے چاراجی۔سابرمتی میمو ٹرین خدمات کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ پی ایم کسان کی 24ویں قسط جاری کرنے کے ساتھ وہ منظور شدہ 12 باغبانی کلسٹروں میں زمینی سطح پر کام کا آغاز بھی کریں گے۔ تقریباً 1.46 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر پھیلے ان کلسٹروں سے 1.3 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ شمالی گجرات کے دو کلسٹر خاص طور پر آلو کی پیداوار پر مرکوز ہوں گے۔
نیشنل اسکول آف ڈرامہ کی جانب سے ’نکسلیزم سے پاک بھارت‘ کے موضوع پر ایک خصوصی ڈرامائی پیشکش کی جائے گی، جس میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ 126 اضلاع کے تقریباً 2000 فنکار حصہ لیں گے۔تقریب کی جھانکیوں اور ثقافتی پروگراموں کا مرکزی موضوع ’وندے ماترم‘ ہوگا۔ ملک بھر سے آئے تقریباً 5000 فنکار ہندوستان کے کلاسیکی اور لوک فنون، موسیقی، رقص اور ثقافتی ورثے کی جھلک پیش کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan