
کاٹھمنڈو، 30 اکتوبر(ہ س)۔ نیپال اور ہندوستان نے سرحدکی سلامتی، ٹیکنالوجی پر مبنی سرحدی انتظام اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں 28 اور 29 اکتوبر کو کاٹھمنڈو میں دونوں ممالک کے درمیان 10ویں رابطہ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں نیپال کی مسلح پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل نارائن دت پودیل اور ہندوستان کی مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی) کے ڈائریکٹر جنرل سنجے سنگھل نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔
میٹنگ میں نویں رابطہ میٹنگ کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں اور سرحد پار جرائم پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی، عملی اقدامات اور زمینی سطح پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس مقصد کے لیے معلومات کا فوری تبادلہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
دونوں فریقوں نے دس گج (دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان واقع نو مینس لینڈ) کے مؤثر انتظام کے لیے غیر مجاز کاشت کاری، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سرحدی ستونوں کی مرمت، دیکھ بھال اور ازسرنو تعمیر کے سلسلے میں متعلقہ اداروں کے فیصلوں کے مطابق زمینی سطح پر رابطہ کاری بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اسی طرح سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس، غیر قانونی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، جعلی کرنسی اور منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے باقاعدگی سے خفیہ اور متعلقہ معلومات کا تبادلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔کھلی سرحد کا غلط استعمال کرتے ہوئے تیسرے ممالک کے شہریوں کی غیر قانونی آمد روکنے کے لیے سرحدی چوکیوں پر جانچ اور دستاویزات کی تصدیق سخت کرنے، دس گج کے علاقے میں مشترکہ گشت کرنے اور مشتبہ افراد کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
سرحدی انتظام کو جدید اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے دس گج کے علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے، اہم سرحدی چوکیوں پر سامان کی جانچ کے لیے اسکینر اور واک تھرو میٹل ڈیٹیکٹر لگانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے علاقوں میں ڈرون کے استعمال کو بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا۔
میٹنگ میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور گمراہ کن اطلاعات سے پیدا ہونے والے سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ سرحدی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ دونوں ممالک کی سلامتی ایجنسیوں کے درمیان باقاعدہ مطالعاتی دورے منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں چتوان کے کورنٹار میں واقع نیپال کی مسلح پولیس فورس کے آفات سے متعلق تربیتی ادارے میں مشترکہ آبی بچاؤ مشق (جوائنٹ سوئفٹ واٹر ریسکیو ایکسرسائز)منعقد کرنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قانونی طریقے سے سرحد پار سفر کرنے والے مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرحدی چوکیوں پر امدادی مراکز کی توسیع پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ کھیلوں، بین الاقوامی دنوں اور اہم تہواروں کے موقع پر مشترکہ ثقافتی پروگرام منعقد کرکے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔میٹنگ میں نیپال کی جانب سے مسلح پولیس فورس کے سینئر افسران کے علاوہ وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، محکمہ پیمائش اراضی، نیپال پولیس اور قومی تحقیقاتی محکمے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ہندوستان کی جانب سے مسلح سرحدی فورس کے سینئر افسران، کاٹھمنڈو میں واقع ہندوستانی سفارت خانے اور وزارت خارجہ و وزارت داخلہ کے نمائندے شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ نیپال اور ہندوستان کے درمیان دوطرفہ رابطہ میٹنگ کا سلسلہ 2012 سے جاری ہے اور اس کا انعقاد دونوں ممالک میں باری باری کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ کا 11واں اجلاس اگلے سال ہندوستان میں منعقد ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan