اسرائیلی وزیر بن گویر کا اسرائیل میں عرب جماعتوں کے سربراہوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ
تل ابیب،30اکتوبر(ہ س)۔اسرائیل میں حالیہ انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کو مبینہ طور پر بیرونی فنڈنگ ملنے کے الزامات نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے ان جماعتوں کے سربراہوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صد
اسرائیلی وزیر بن گویر کا اسرائیل میں عرب جماعتوں کے سربراہوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ


تل ابیب،30اکتوبر(ہ س)۔اسرائیل میں حالیہ انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کو مبینہ طور پر بیرونی فنڈنگ ملنے کے الزامات نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے ان جماعتوں کے سربراہوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات کے نام پر پورے عرب معاشرے کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔بن گویر نے اسرائیل کی جنرل سکیورٹی سروس ’شاباک‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ بیرونی ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کے شبہات میں گھری عرب جماعتوں کے سربراہوں کو گرفتار کرے۔ تاہم، ان الزامات کی تصدیق کے لیے تاحال کوئی عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ انتخابات کی شفافیت جمہوریت کی بنیادی اقدار میں شامل ہے۔ ان کے مطابق الزامات اور دعوؤں کی مکمل جانچ ہونی چاہیے اور اگر کسی کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی پورے معاشرے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا درست نہیں، خصوصاً ایسے شہریوں کی جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہیں۔یہ تنازع منگل کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی کے دوران سامنے آیا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی کیمپ اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت والا اپوزیشن بلاک حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکا۔ عرب جماعتوں نے مبینہ طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل میں ان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔

مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین جج نوعام سولبرگ نے ’شاباک‘ سے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی کہ ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ (راعم) کو بیرونی ذرائع سے مالی مدد ملی ہے۔ دوسری طرف لیکوڈ پارٹی نے اس معاملے کو سیاسی زلزلہ قرار دیتے ہوئے انتخابات میں بیرونی مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔تاحال سرکاری عہدیداروں نے ان الزامات کے حق میں کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں بریفنگ بھی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت روکنے کے لیے محتاط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا، تاہم خبردار کیا کہ اس معاملے کو نئی کنیسٹ کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسرائیلی پولیس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق تمام شکایات کی تحقیقات کرے گی۔ مختلف اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی جانچ تیز رفتار اور شفاف انداز میں کی جائے تاکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری الزام تراشی کا خاتمہ ہو سکے۔اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں عرب جماعتوں کے ساتھ اپوزیشن کے ممکنہ تعاون پر اس تنازع کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ صدر اسحاق ہرزوگ بھی مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دی جا سکے جس کے پاس نئی حکومت تشکیل دینے کا سب سے زیادہ امکان ہو۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande