عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کے غیر مجاز استعمال پر سپریم کورٹ سخت
نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کی ویڈیوز اور آڈیو کلپس کو سوشل میڈیا پر بغیر اجازت استعمال کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور ان کے ذریعے کمائی کرنے کے معاملات پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ لائیو
عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کے غیر مجاز استعمال پر سپریم کورٹ سخت


نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کی ویڈیوز اور آڈیو کلپس کو سوشل میڈیا پر بغیر اجازت استعمال کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور ان کے ذریعے کمائی کرنے کے معاملات پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ لائیو اسٹریمنگ کے دوران ریکارڈ کی جانے والی عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کے غیر مجاز استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی دفعات نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی یا ڈیجیٹل انڈیا کے ضوابط میں شامل کی جائیں۔

عدالت نے اس طرح کی سرگرمیوں پر عبوری پابندی عائد کرتے ہوئے مرکزی حکومت، تمام ریاستوں اور میٹا و ایکس جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ہرشیتا گروور کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔ عرضی میں عدالت کی لائیو اسٹریمنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر سنگین تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ جب لائیو اسٹریمنگ شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد عدالتی کارروائی میں شفافیت لانا تھا، لیکن اب سوشل میڈیا پر سماعت کے کچھ حصوں کی ویڈیوز کاٹ کر انہیں ریلز اور یوٹیوب شارٹس کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس پر عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو 24 گھنٹے چلنے والا تفریحی چینل نہیں بنایا جا سکتا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خود ایک ایسا واقعہ بھی بیان کیا جس میں ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض وکلا بھی اپنی بحث کے حصوں کو سوشل میڈیا پر ڈال کر ذاتی تشہیر اور پیشہ ورانہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے عدلیہ کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande