
کھٹمنڈو، 3 اکتوبر (ہ س): نیپال میں تہواروں یا ہنگامی حالات کے دوران مسافروں سے من مانی فضائی کرایہ وصول کرنے والی ایئرلائنز کو حکومت سخت قانونی اور مالی کارروائی کے دائرے میں لانے جا رہی ہے۔
وفاقی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے نیپال سول ایوی ایشن اتھارٹی سے متعلق قانون میں ترمیم اور یکجا کرنے کے لیے تیار کردہ بل میں منظور شدہ کرائے سے زیادہ رقم وصول کرنے والی ایئرلائنز پر 15 لاکھ نیپالی روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے بل کی دفعہ 47 میں فضائی کرائے سے متعلق بے ضابطگی کو سنگین جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
اتھارٹی کی جانب سے منظور شدہ فضائی کرائے کی شرح سے زیادہ رقم وصول کرکے ہوائی جہاز چلانے کو قانون کے تحت جرم تصور کیا جائے گا۔
ایسا جرم ثابت ہونے پر ایئرلائنز کو بھاری مالی جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ بل کی دفعہ 48(1)(ب) کے تحت منظور شدہ کرائے سے زیادہ رقم وصول کرنے والی ایئرلائن یا فرد پر ڈائریکٹر جنرل کو 5 لاکھ سے 15 لاکھ نیپالی روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
ایک بار جرمانہ ادا کرنے کے باوجود اگر کوئی ایئرلائن مسافروں سے دوبارہ اضافی کرایہ وصول کرتی ہے تو اس کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پہلے سزا پانے والا شخص یا ادارہ اگر دوبارہ وہی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے گزشتہ سزا کے مقابلے میں دوگنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
قانون نافذ ہونے کے بعد تہواروں، خراب موسم اور قدرتی آفات کے دوران مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں اور فضائی کرایوں میں من مانی سے راحت ملنے کے ساتھ ساتھ ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ پر بھی قابو پانے کی امید کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد