
نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س):۔
دہلی کی راؤز ایونیو عدالت میں ہفتہ کو ریلوے ٹینڈر گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے کی سماعت کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو عدالت میں پیش ہوئے۔ آج اس معاملے میں باقاعدہ طور پر الزامات طے کرنے سے متعلق سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اسپیشل جج پرشانت کمار نے معاملے کی اگلی سماعت 30 اکتوبر کو مقرر کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے 13 فروری کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ 28 جنوری 2019 کو عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے درج مقدمے میں لالو یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کو باقاعدہ ضمانت دی تھی۔ عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت منظور کی تھی۔ 19 جنوری 2019 کو عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے درج مقدمے میں لالو یادو کو باقاعدہ ضمانت دی تھی۔
عدالت نے 13 اکتوبر 2025 کو ریلوے ٹینڈر گھوٹالے سے متعلق سی بی آئی کے معاملے میں لالو یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سمیت دیگر ملزمین کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے 17 ستمبر 2018 کو ای ڈی کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی تھی۔ اس معاملے میں لالو یادو، رابڑی دیوی سمیت 16 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ای ڈی کی جانب سے ملزم بنائے گئے افراد میں لالو یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، میسرز لارا پروجیکٹ ایل ایل پی، سرلا گپتا، پریم چند گپتا، گورو گپتا، ناتھ مل ککرانیا، راہل یادو، وجے ترپاٹھی، دیوکی نندن تلسیاں، میسرز سجاتا ہوٹل، ونئے کوچر، وجے کوچر، راجیو کمار ریلان اور میسرز ابھیشیک فنانس پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
لالو یادو پر الزام ہے کہ ریلوے وزیر رہتے ہوئے انہوں نے ریلوے کے دو ہوٹلوں کو آئی آر سی ٹی سی کو منتقل کیا اور ان ہوٹلوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹینڈر جاری کیے تھے۔ رانچی اور پوری کے دونوں ہوٹلوں کا الاٹمنٹ کوچر برادران کی کمپنی سجاتا ہوٹل کو منتقل کر دیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ