کرناٹک میں شدید خشک سالی پر کانگریس صدر کا وزیراعظم کو خط، فوری امداد کا مطالبہ
نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔ کرناٹک میں خشک سالی کی صورت حال کے حوالے سے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ کھرگے کا دعویٰ ہے کہ کرناٹک گزشتہ 150 برسوں کی
CONG-KHARGE-KARNATAKA-DROUGHT


نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔ کرناٹک میں خشک سالی کی صورت حال کے حوالے سے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ کھرگے کا دعویٰ ہے کہ کرناٹک گزشتہ 150 برسوں کی شدید ترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) سے مانگی گئی 3,705.30 کروڑ روپے کی امدادی رقم بغیر کسی کٹوتی کے فوری جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

وزیراعظم کو لکھے خط میں کانگریس صدر نے بتایا کہ ستمبر تک کرناٹک میں مانسون کے دوران 58 فیصد بارش کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ریاست کے تمام 31 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ یکم جون سے 31 اگست کے درمیان ریاست میں معمول کی 691 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں صرف 477 ملی میٹر بارش ہوئی، جو گزشتہ 50 برسوں میں دوسری سب سے کم بارش ہے۔ ریاست کے مجموعی 240 تعلقوں میں سے 217 میں بارش میں شدید کمی رہی، جن میں سے 177 تعلقوں کو تین مرحلوں میں خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر تعلقوں کا جائزہ جاری ہے۔

کھرگے نے کہا کہ خشک سالی کے باعث ریاست میں 19.52 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر زرعی اور باغبانی کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ ان میں 17.85 لاکھ ہیکٹیئر زرعی فصلیں اور 1.67 لاکھ ہیکٹیئر باغبانی کی فصلیں شامل ہیں۔ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 18,748.23 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ ریاست کو مجموعی طور پر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کا بھاری اقتصادی نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔

کھرگے نے اپنے خط میں پانی کے ذخائر کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست تک کرناٹک کے 13 بڑے آبی ذخائر میں ان کی گنجائش کے مقابلے میں بہت کم پانی باقی رہ گیا تھا۔ کاویری بیسن میں شدید کمی ہے اور بنگلورو کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے کرشنا راج ساگر (کے آر ایس) ڈیم میں صرف 64 فیصد پانی موجود ہے۔ پن بجلی کے ذخائر میں پانی کی سطح 61 فیصد تک گرنے کے باعث 5,500 سے 6,000 ملین یونٹ تک پن بجلی کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی پمپنگ کے لیے مہنگی بجلی خریدنے کا اضافی مالی بوجھ ریاستی حکومت پر پڑے گا۔

کانگریس صدر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 3 سے 7 اکتوبر کے درمیان ریاست کا دورہ کرنے والی تین بین وزارتی مرکزی ٹیموں (آئی ایم سی ٹی) کے علاوہ شدید متاثرہ کلیان کرناٹک (حیدرآباد-کرناٹک) علاقے میں زمینی نقصان کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر ایک اضافی مرکزی ٹیم بھیجی جائے۔

واضح رہے کہ کرناٹک کا تقریباً 79 فیصد جغرافیائی علاقہ خشک سالی کے لیے حساس ہے، جبکہ 77 فیصد علاقہ خشک یا نیم خشک زمرے میں آتا ہے۔ ریاست کی سالانہ بارش کا 74 فیصد حصہ جنوب مغربی مانسون سے حاصل ہوتا ہے، جس کے ناکام ہونے سے ریاست کے تمام دس زرعی-آب و ہوا کے علاقوں میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے مرکز کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ مینوئل 2020 کے تحت تفصیلی عرضداشت پیش کرتے ہوئے 3,705.30 کروڑ روپے کی امداد کی درخواست کی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں یہ رقم جلد جاری کرنے کے لیے مسلسل مرکزی حکومت پر دباو ڈال رہی ہیں۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande