بلوچستان: سوراب میں پاکستانی بمباری سے مسجد اور مکانات کو نقصان، بالیچہ میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا
سوراب، 3 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سوراب کے ناگر علاقے میں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی بمباری سے ایک مسجد اور کئی مکانات کو نقصان پہنچنے کی خبر ہے۔ واقعے کے خلاف مقامی رہائشیوں نے مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا۔ مظاہرین کو ہٹانے کے
بلوچستان: سوراب میں پاکستانی بمباری سے مسجد اور مکانات کو نقصان، بالیچہ میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا


سوراب، 3 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سوراب کے ناگر علاقے میں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی بمباری سے ایک مسجد اور کئی مکانات کو نقصان پہنچنے کی خبر ہے۔ واقعے کے خلاف مقامی رہائشیوں نے مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا۔ مظاہرین کو ہٹانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا۔ تاہم، فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

بلوچستان کے آن لائن نیوز نیٹ ورک ’دی بلوچستان پوسٹ‘ نے مقامی رہائشیوں کے حوالے سے بتایا کہ ناگر میں رات کے وقت بمباری ہوئی، جس سے کئی مکانات اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد لوگوں نے مرکزی شاہراہ پر احتجاج کرتے ہوئے واقعے کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

اسی دوران، مکران ڈویژن کے وکلا نے ضلع کیچ کے بالیچہ میں 24 ستمبر کو ہونے والے ایک مبینہ ڈرون حملے کے خلاف جمعرات کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر تربت، گوادر، پنجگور اور پسنی کے وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ اس کے باعث کئی مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی اور عدالت آنے والے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

وکلا کی تنظیموں نے بالیچہ کے واقعے کو ’سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، چار مقامی نوجوان پکنک منانے کے لیے لوتم کے پہاڑی علاقے میں گئے تھے، جہاں مبینہ ڈرون حملے میں ان کی موت ہو گئی۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے قانونی کارروائی کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، بالیچہ کے چھ رہائشی لوتم گئے تھے۔ ان میں سے چار افراد کھانا بنا رہے تھے، جبکہ دو دیگر شکار کے لیے گئے تھے۔ اسی دوران ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین کزن بھی شامل تھے۔

تاہم، پاکستانی حکام نے ہلاک ہونے والوں کو مشتبہ شدت پسند قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ خاندانوں اور مقامی رہائشیوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے اور پکنک کے لیے علاقے میں گئے تھے۔

یہ واقعات بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران فضائی حملوں اور بمباری کی سامنے آنے والی رپورٹس کے درمیان پیش آئے ہیں۔ اگست میں سوراب کے گیدار گوندھن کے رہائشیوں نے پاکستانی فوجی طیاروں پر عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس واقعے میں خواتین اور بچے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد متاثرہ خاندانوں نے کوئٹہ-کراچی ہائی وے پر دھرنا دیا تھا۔ پاکستانی فوج نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکا خیز مواد تیار کرنے والے شدت پسند قبل از وقت ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande