
کوئٹہ، 3 اکتوبر (ہ س)۔ بلوچستان میں دو بلوچ مسلح گروہوں نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک گروہ نے کچھی ضلع میں فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان کے آن لائن نیوز نیٹ ورک ’دی بلوچستان پوسٹ‘ کے مطابق، بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے سبی کے کٹپار علاقے میں بجلی کی ترسیلی لائن کے دو اہم ٹاورز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ حملے میں دو دیگر ٹاورز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
تنظیم کے ترجمان دوستین بلوچ کے مطابق، جمعرات کی شام کچھی ضلع کے سنی کے قریب پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ جنگجوؤں نے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں کئی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم، تنظیم نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔
اسی دوران، یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) نے بھی کچھی کے سنی چغاردی علاقے میں فوج کی تین گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ تنظیم کے مطابق، حملہ جمعرات کی صبح تقریباً 11:30 بجے کیا گیا، جس میں چار فوجی ہلاک اور کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔
یو بی اے کے ترجمان مزار بلوچ نے دعویٰ کیا کہ فوج کا قافلہ علاقے میں جاری ایک فوجی آپریشن کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق، دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً 90 منٹ تک جھڑپ ہوئی، جس کے بعد تنظیم کے جنگجو وہاں سے نکل گئے۔
دونوں تنظیموں نے بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنی مسلح کارروائیاں جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔ تاہم، ان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد