
نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر مکمل پابندی عائد کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت تہواروں کے موقع پر لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی۔ اس لیے وہ ایک متوازن حکم جاری کرے گی، جس میں پٹاخوں کی اقسام اور انہیں جلانے کے اوقات مقرر کیے جا سکتے ہیں۔
عدالت نے دہلی حکومت اور کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قواعد پر زمینی سطح پر مو¿ثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوتا، ہر سال صرف احکامات جاری کرنا محض مذاق یا ایک علمی مشق بن کر رہ جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے افسران کو اعلیٰ سطح پر اور نئے انداز سے سوچنا ہوگا۔ چونکہ تاجر مانگ اور رسد کے مطابق غیر قانونی طور پر بھی پٹاخے فروخت کرتے ہیں، اس لیے صرف پٹاخوں کی فروخت پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
عدالت نے یاد دلایا کہ دیوالی روشنی اور دیے جلانے کا تہوار ہے، نہ کہ پٹاخے پھوڑنے کا۔ مسئلہ روشنی اور دیوں سے نہیں بلکہ پٹاخوں سے نکلنے والے دھوئیں سے ہے۔ عدالت نے کرکٹر وراٹ کوہلی جیسی معروف شخصیات اور رول ماڈل کو آلودگی کے خلاف مہم میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ نئی نسل میں بیداری پیدا ہو۔
اس سے قبل 30 ستمبر کو سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ پٹاخوں پر مکمل پابندی لگانے سے لوگوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔ اس لیے نہ تو مکمل پابندی عائد کی جائے گی اور نہ ہی 24 گھنٹے آتش بازی کی اجازت دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد