
سری نگر، 28 اکتوبر (ہ س)۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پہلگام میں ہو رہی مبینہ ’بے لگام تعمیرات‘ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تعمیرات اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی سرپرستی میں ہو رہی ہیں اور اس سے پہلگام کا نازک ماحولیاتی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
وہ ایک میڈیا رپورٹ پر ردعمل ظاہر کر رہی تھیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی پابندی کے باوجود پہلگام کنکریٹ جنگل بن گیا ہے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر سوالات سے گریز کیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ پہلگام، جو ’’زمین پر جنت ہے اور جسے مفتی صاحب بے حد چاہتے تھے‘‘، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی سرپرستی میں ’’بے لگام، تقریباً انتقامی تعمیرات‘‘ کی زد میں ہے۔ مفتی صاحب سے مراد ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید ہیں۔
انہوں نے لکھا: ’’قدرت کا انمول ورثہ فوری منافع کی خاطر قربان کیا جا رہا ہے اور اس کے نازک ماحولیاتی نظام کو کنارے تک پہنچا دیا گیا ہے۔‘‘
اس کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’خدا نخواستہ پہلگام کو اتراکھنڈ یا نیپال جیسی کسی تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ جنت کھنڈر بن گئی تو اسے دیکھنے کون آئے گا؟‘‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس منڈلاتی ہوئی آفت کے ناقابل تلافی سانحے میں بدلنے سے پہلے مداخلت کے لیے عدلیہ ہی آخری امید ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کسی فرد یا محکمے کا نام نہیں لیا۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اس معاملے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت کے دوران پہلگام میں نئی تعمیرات پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ پی ڈی پی نے اس سے پہلے بھی علاقے میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے حکومتی طریقے پر تنقید کی ہے۔
2025 کے اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت نے بتایا تھا کہ پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بلڈنگ آپریشن کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے دی گئی اجازتوں سے 269 انحرافات پر نوٹس جاری کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ