
اقوام متحدہ، 29 اکتوبر (ہ س): ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا جس میں کیوبا پر امریکی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہندوستان نے کہا کہ ایسے قوانین اور ضوابط جو دوسرے ممالک کی خودمختاری پر منفی اثر ڈالتے ہیں اور ان کے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی کونسلر سومیا نائر نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے قوانین اور اقدامات کو واپس لینے اور منسوخ کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی پر ہندوستان کا یقین اس اصول پر مبنی ہے کہ بین الاقوامی چیلنجوں کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔
ہندوستان نے امید ظاہر کی کہ کیوبا پرعاید پابندیاں جلد ہٹا دی جائیں گی، جس سے اس کے لوگوں کو بین الاقوامی تعاون میں حصہ لینے اور اپنی ترقی کی خواہشات کو پورا کرنے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔
نائر نے کیوبا کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پابندیوں کے اثرات کو بھی نوٹ کیا۔ ان کے مطابق ملک کو 60 فیصد سے زائد ضروری ادویات کی قلت کا سامنا ہے، جب کہ گزشتہ پانچ سالوں میں خوراک کی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ ایندھن کی برآمدات پر حالیہ سخت پابندیوں نے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، پانی کی فراہمی، خوراک کی تقسیم اور نقل و حمل جیسی ضروری خدمات کو بھی متاثر کیا ہے۔
قرارداد کو جنرل اسمبلی نے حق میں 130، مخالفت میں 17 اور غیر حاضری کے ساتھ منظور کیا۔
ووٹنگ سے قبل جنرل اسمبلی میں امریکہ اور کیوبا کے نمائندوں کے درمیان گرما گرم تبادلہ ہوا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان کو کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑی۔ بعد ازاں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کیوبا کے سفارت کار کو نکالے جانے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے تمام وفود سے اپیل کی کہ وہ جنرل اسمبلی کے قوانین اور وقار کا احترام کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد