نیٹ پیپر لیک معاملے میں الزامات طے کرنے پر 18 نومبر کو فیصلے کا امکان
نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س): راؤز ایونیو کورٹ نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کے خصوصی جج اجے گپتا نے 18 نومبر کو فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جمعرات کو اس معاملے کے 14
نیٹ پیپر لیک معاملے میں الزامات طے کرنے پر 18 نومبر کو آئے گا فیصلہ


نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س): راؤز ایونیو کورٹ نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کے خصوصی جج اجے گپتا نے 18 نومبر کو فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جمعرات کو اس معاملے کے 14ویں ملزم شیش راؤ بجرنگ سوریہ ونشی کی جانب سے الزامات طے کرنے کے معاملے پر دلائل سنے۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے 14 اکتوبر کو شیش راؤ بجرنگ سوریہ ونشی عرف راج سوریہ ونشی کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے ملزم دھننجے لوکھنڈے کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے دھننجے لوکھنڈے پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

راؤز ایونیو کورٹ نے 22 اگست کو دھننجے لوکھنڈے کی گرفتاری کا میمو فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست خارج کر دی تھی۔ اس سے قبل عدالت نے 14 اگست کو سی بی آئی کو اس معاملے میں مزید تفتیش کرنے کی اجازت دی تھی۔ 12 اگست کو عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے 13 ملزمان کے خلاف داخل کردہ چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔

سی بی آئی نے یش یادو، مانگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم کھیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شِرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹے گاؤںکر، منیشا واگھمارے، منیشا مندھارے اور منیشا سنجے حوالدار کو ملزم بنایا ہے۔

سی بی آئی نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 315(5)، 318(4)، 61(2)، 238 اور 303(2)، انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعات 13(2) اور 13(1)(اے)، نیز پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ کی دفعات 10، 3، 4، 5 اور 11 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔

چارج شیٹ پر سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا تھا کہ اس معاملے میں 12 مئی کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس کے فوراً بعد 72 افسران اور آٹھ سائبر فارینزک ماہرین کی مدد سے تفتیش شروع کی گئی۔ سی بی آئی نے مہاراشٹر، راجستھان، ہریانہ، دہلی اور دیگر ریاستوں میں 92 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ اس معاملے میں پہلی گرفتاری 13 مئی کو کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande