مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی، ریس کورس مسجد پر فی الحال کوئی کارروائی نہیں ہوگی
نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س): مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ریس کورس مسجد کو اس وقت تک منہدم نہیں کیا جائے گا، جب تک اس معاملے پر دہلی وقف بورڈ کی عرضداشت پر فیصلہ نہیں کر لیا جاتا۔ مرکزی حکومت کی اس اطلاع کے بعد جمعرات کو جس
دہلی


مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی، ریس کورس مسجد پر فی الحال کوئی کارروائی نہیں ہوگی


نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س): مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ریس کورس مسجد کو اس وقت تک منہدم نہیں کیا جائے گا، جب تک اس معاملے پر دہلی وقف بورڈ کی عرضداشت پر فیصلہ نہیں کر لیا جاتا۔ مرکزی حکومت کی اس اطلاع کے بعد جمعرات کو جسٹس انیش دیال کی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 16 دسمبر کو مقرر کرنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل 27 اکتوبر کو مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگلی سماعت تک ریس کورس مسجد کے خلاف توڑ پھوڑ کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ یقین دہانی جسٹس انیش دیال کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران کرائی گئی تھی۔ عرضی میں مسجد کو ممکنہ انہدام سے بچانے اور نمازیوں کے لیے بلا رکاوٹ رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ مسجد ریس کورس کلب کے اندر واقع ہے، جو لوک کلیان مارگ پر واقع وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہے۔ اس کلب کا رقبہ تقریباً 53 ایکڑ ہے۔ عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل ایم سفیان صدیقی نے کہا کہ مسجد کو منہدم کیے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کر دی گئی تھی۔ اس پر مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے وکیل آشیش دکشت نے واضح کیا کہ ریس کورس علاقے میں جاری انہدامی کارروائیوں کے پیش نظر حفاظتی نقطۂ نظر سے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔

عرضی گزار اور مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد 1977 کے دہلی گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے اور این ڈی ایم سی کے ہیریٹیج رجسٹر میں گریڈ-2 ورثہ جاتی عمارت کے طور پر فہرست میں شامل ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہیریٹیج کمیٹی کی خصوصی اجازت کے بغیر اس عمارت کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande