
کابل/اسلام آباد، 29 اکتوبر (ہ س)۔ افغان فورسز نے پاکستان کے حملے کے جواب میں اس کے فوجی ٹھکانوں اور چوکیوں پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسلامی امارت کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا کے انگور اڈہ ضلع بازار کے قریب پاکستانی فوجی ٹھکانوں پر زوردار حملے کیے۔ یہ کارروائی اس علاقے میں پاکستانی فورسز کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔
کابل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی فورسز نے بدھ کی دوپہر تقریباً ایک بجے انگور اڈہ بازار اور نام نہاد ڈیورنڈ لائن کے پاس واقع چوکی پر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے چار حملے کیے۔ وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق، اس کے جواب میں افغان فورسز نے علاقے کے قریب موجود پاکستانی فوجی ٹھکانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں کئی پاکستانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے میں افغان فورسز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دی نیوز (پاکستان) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے انگور اڈہ بارڈر کے واقعے پر کابل کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ وزارت نے کہا کہ افغان طالبان فورسز نے پاکستان کے شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور مارٹر شیلنگ کی۔ اس واقعے میں ایک شہری کی موت ہو گئی اور ایک ہی خاندان کے پانچ ارکان زخمی ہو گئے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، وزارت کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کی فوج نے جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ علاقے میں عام لوگوں پر افغان طالبان فوج کے بلا اشتعال حملے کے بعد جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ’’فوری، مؤثر اور انتہائی سخت جواب‘‘ دیا۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں افغان فورسز کی سات چوکیاں تباہ ہو گئیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ صوبہ پکتیکا افغانستان کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس کی بین الاقوامی سرحد مشرق اور جنوب میں پاکستان (ڈیورنڈ لائن) سے ملتی ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کے شمالی و جنوبی وزیرستان اور صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب سے متصل ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن