ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر وصولی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت: سپریم کورٹ
نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل گرفتاری کے ذریعے لوگوں سے زبردستی رقم وصولی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان سائبر جرائم کو ”ڈیجیٹل ڈکیتی“ قرار دیا۔ چیف جسٹس سوری
ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر وصولی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت: سپریم کورٹ


نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل گرفتاری کے ذریعے لوگوں سے زبردستی رقم وصولی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان سائبر جرائم کو ”ڈیجیٹل ڈکیتی“ قرار دیا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سائبر جرائم میں ملوث یہ منظم گروہ خاص طور پر بزرگوں اور ریٹائرڈ افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون میں کوئی ایسی دفعہ یا گنجائش موجود ہو، جس کے تحت ان ”بے رحم مجرموں“ کو مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی سزا دی جا سکے، تو اسے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے دو ملزمین، گورو کمار ساہا اور ندھی بھنڈاری کی اس عرضی کو خارج کر دیا، جس میں انہوں نے ملک کی 12 ریاستوں میں درج 35 فوجداری مقدمات کو ایک ہی مقام، یعنی دہلی منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ملزمین اپنی سہولت کے لیے متاثرین کو دہلی آنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ملزمین کی سہولت کا حق، متاثرین اور تفتیشی ایجنسیوں کے حقوق سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد عرضی گزاروں کے وکیل نے عدالت کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے عرضی واپس لے لی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande