دہلی میں ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کے الیکشن کمیشن سے سخت سوالات، اگلی سماعت نومبر میں
نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر ہندوستان کے الیکشن کمیشن سے سخت سوالات کیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ جاننا چاہا کہ جو لوگ پہلے سے ووٹر کے طور پر رجسٹر
دہلی میں ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کے الیکشن کمیشن سے سخت سوالات، اگلی سماعت نومبر میں


نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر ہندوستان کے الیکشن کمیشن سے سخت سوالات کیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ جاننا چاہا کہ جو لوگ پہلے سے ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھے، لیکن نئی مسودہ فہرست سے ان کے نام خارج ہو گئے ہیں، انہیں فارم 6 بھرنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس فارم کے ذریعے انہیں پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے شہریوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت نومبر میں کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل جی راجگوپالن نے دلیل دی کہ انتظامی نقطہ نظر سے نئی مسودہ فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کو ایس آئی آر کے تحت نئے سرے سے اندراج کا معاملہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے انہیں پہلی بار ووٹر بننے والوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے اس دلیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہری 2026 کی ووٹر لسٹ میں پہلے ہی تصدیق شدہ ووٹر تھے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کی توجہ ایک سنگین قانونی مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔ فارم 6 میں درخواست گزار کو حلف کے ساتھ یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ اس نے اس سے پہلے کبھی ووٹر کے طور پر اپنا اندراج نہیں کرایا ہے۔ پہلے سے رجسٹرڈ ووٹروں کو اس دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کرنا دراصل انہیں غلط اعلان کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعہ 31 کے تحت ایسا کرنا جرم ہے، جس پر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

اس پر عدالت نے واضح کیا کہ ”ووٹ دینے کا حق انتہائی اہم حق ہے“ اور اس معاملے میں پوری احتیاط برتی جانی چاہیے۔ عدالت نے تجویز دی کہ پرانے ووٹروں کو نیا فارم 6 بھرنے کے بجائے عام اندراجی فارم یا فارم 8 استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ فارم 8 کا استعمال تفصیلات میں اصلاح یا پتہ تبدیل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن ان ووٹروں کی فہرست عام کرے جن کے نام حذف کیے گئے ہیں، تاکہ متاثرہ افراد آسانی سے اپنے نام دیکھ سکیں اور اصلاح کے لیے اپنے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے رابطہ کر سکیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ محض اس وجہ سے کسی ووٹر کا حق نہیں چھینا جا سکتا کہ گھر گھر جاکر ابتدائی تصدیق کے وقت وہ موجود نہیں تھا۔ ایسے ووٹروں کے لیے الگ زمرہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ انہیں اپنے دستاویزات پیش کرنے اور اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کا موقع مل سکے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا کہ چونکہ دہلی میں فی الحال کوئی انتخاب ہونے والا نہیں ہے، اس لیے اس عمل میں جلد بازی نہ کی جائے۔ اس پر الیکشن کمیشن دعووں اور اعتراضات کی مدت بڑھانے پر راضی ہوگیا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ وہ متاثرہ ووٹروں کے لیے متبادل فارم فراہم کرنے کے معاملے پر داخلی طور پر غور کرے گا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ان متبادل طریقوں پر غور کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande