

تل ابیب (اسرائیل)، 28 اکتوبر (ہ س)۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے لیے منگل کو ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد اکثریت حاصل کرتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
چینل 11، چینل 12 اور چینل 13 کے ایگزٹ پولز کے مطابق، وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اتحاد اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن اتحاد، دونوں ہی اکثریت کے لیے ضروری 61 نشستوں کے ہندسے تک پہنچنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ ایگزٹ پولز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن اتحاد نے اپنی جیت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دی یروشلم پوسٹ اور دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹوں کے مطابق، اپوزیشن اتحاد میں شامل یش عتید، بی یاحاد، اسرائیل بیتینو اور ڈیموکریٹس کو 50 سے 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فریق کے لیے اتحادی حکومت تشکیل دینے کا واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ تاہم، ایگزٹ پولز جاری ہوتے ہی اپوزیشن اتحاد نے اپنی جیت کا دعویٰ کر دیا۔
ایگزٹ پولز کے مطابق، لیکوڈ سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ عرب جماعتوں کو ریکارڈ تعداد میں نشستیں ملنے کے آثار ہیں۔ آئزن کوٹ نے ’’عوام کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے‘‘ اور ’’سب کے لیے لازمی فوجی خدمت کی پابند صہیونی حکومت‘‘ تشکیل دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب، نیتن یاہو نے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے اور کنیسٹ میں پہنچنے والی تمام جماعتوں کے نمائندوں سے بات چیت کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ کو حکومت تشکیل دینے کے لیے اس شخص کا انتخاب کرنا ہوگا، جسے وہ اس ذمہ داری کے لیے سب سے زیادہ موزوں سمجھیں گے۔
اس دوران بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے کہا ہے کہ ان کا اتحاد حکومت تشکیل دینے کے لیے ’’اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔‘‘ ماہرین نے اقلیتی حکومت کے قیام کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا ہے۔
گولان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس نے نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا ہے۔‘‘ چینل 12 کے ایگزٹ پول کے مطابق، صہیونی اپوزیشن اتحاد کو 52 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 نشستیں مل سکتی ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق، رات 10 بجے تک 77.7 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ اس دوران مجموعی طور پر 56 لاکھ 95 ہزار 682 اسرائیلی شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ سال 2022 کے انتخابات میں اسی وقت تک 70.6 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ 1999 کے بعد سے اس وقت تک درج کیا گیا یہ سب سے زیادہ ووٹنگ فیصد ہے۔ اسے تقریباً حتمی اعداد و شمار قرار دیا جا رہا ہے۔ ووٹنگ مراکز رات 10 بجے بند ہو گئے۔
دریں اثنا، ’اکتوبر کونسل‘ نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے پہلے ہی دن مبینہ قتل عام کی تحقیقات کے لیے ایک ’ریاستی تحقیقاتی کمیشن‘ (اسٹیٹ کمیشن آف انکوائری) تشکیل دے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد