اعظم خان سے وابستہ جوہر یونیورسٹی کی 426.46 کروڑ روپے کی جائیداد عارضی طور پر قرق
نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان سے وابستہ رام پور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 426.46 کروڑ روپے مالیت کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پ
اعظم خان سے وابستہ جوہر یونیورسٹی کی 426.46 کروڑ روپے کی جائیداد عارضی طور پر قرق


نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان سے وابستہ رام پور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 426.46 کروڑ روپے مالیت کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر قرق کر لیا ہے۔ قرق کی گئی جائیداد کی موجودہ بازاری قیمت تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ ای ڈی کے لکھنو¿ علاقائی دفتر نے یہ کارروائی انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت کی ہے۔

ای ڈی کے مطابق، یونیورسٹی کا کیمپس رام پور کے سنگھن کھیڑا گاو¿ں میں واقع جوہر نگر میں ہے۔ یہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے تحت چلائی جاتی ہے۔ اس ٹرسٹ کی بنیاد اعظم خان نے رکھی تھی اور وہ یونیورسٹی کے اعزازی چانسلر بھی ہیں۔ ایجنسی نے ٹرسٹ، اعظم خان اور دیگر افراد کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات کی بنیاد پر یہ کارروائی کی ہے۔

ای ڈی نے بتایا کہ رام پور کے عظیم نگر تھانے میں درج 26 ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا تھا کہ کسانوں کی زرعی زمین زبردستی حاصل کرکے یونیورسٹی کے لیے استعمال کی گئی۔

رام پور ضلع انتظامیہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، سنگھن کھیڑا گاو¿ں میں دشمن کی جائیداد کے 45 پلاٹوں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 34 ایکڑ ہے، پر بھی یونیورسٹی کے لیے غیر قانونی قبضے کا الزام تھا۔ ایجنسی کے مطابق، متعلقہ زمین کا پٹہ منسوخ ہونے کے بعد وزارت داخلہ کے تحت دشمن کی جائیداد کے نگران نے ضلع انتظامیہ کے ذریعے اس کا قبضہ واپس حاصل کر لیا ہے۔

تحقیقات کے دوران ای ڈی نے پایا کہ سرکاری کاموں کے لیے مختص رقم یونیورسٹی کی تعمیر میں استعمال کی گئی۔ یہ الزام بھی ہے کہ سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والے ٹھیکیداروں نے رقم ٹرسٹ کو عطیات کی شکل میں واپس بھیجی۔

ایجنسی کے مطابق، ایک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے تقریباً 186 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں سے 30 سے 40 فیصد رقم یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے سامان خریدنے میں استعمال کی گئی۔ ایک دوسری کمپنی کے شراکت داروں نے اعظم خان کے اثر و رسوخ میں کام کرنے اور ٹرسٹ کو 40 لاکھ روپے عطیہ دینے کی بات بھی تسلیم کی۔

ای ڈی کے مطابق، یونیورسٹی کیمپس میں اراکین اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کے مقامی ترقیاتی فنڈ سے 6.60 کروڑ روپے کے کام کرائے گئے۔ اس کے علاوہ اتر پردیش حکومت نے کیمپس میں پنڈال، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے طلبہ کے ہاسٹل اور اسپتال بلاک کی تعمیر کے لیے 23.41 کروڑ روپے منظور کیے تھے۔

ایجنسی نے بتایا کہ پنڈال کی تعمیر کے لیے 2015 میں منظور کیے گئے 12.16 کروڑ روپے کے ساتھ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اس کی ملکیت محکمہ ثقافت کے پاس رہے گی اور ریاستی حکومت اسے بلا معاوضہ استعمال کر سکے گی۔ تاہم، 2016 میں حکم نامے میں تبدیلی کرکے پنڈال کی ملکیت یونیورسٹی کو دے دی گئی اور ریاستی حکومت کے استعمال سے متعلق شرط بھی ہٹا دی گئی۔

ای ڈی نے یونیورسٹی کی جائیداد کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 59 عمارتوں کی تعمیر پر 494.46 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ یونیورسٹی کی زمین کی قیمت 4.63 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح پورے کیمپس کی مجموعی لاگت 499.09 کروڑ روپے قرار دی گئی۔

ٹرسٹ نے اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں 78.32 کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات ظاہر کیے تھے، جن میں سے 12.29 کروڑ روپے کے عطیات غیر حقیقی پائے گئے۔ ایجنسی کے مطابق، جائز ذرائع سے صرف 72.63 کروڑ روپے کے اخراجات کا حساب مل سکا، جبکہ باقی 426.46 کروڑ روپے کے ذرائع کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ای ڈی نے اسی رقم کو جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی قرار دیتے ہوئے متعلقہ جائیداد قرق کی ہے۔

ای ڈی نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ انکم ٹیکس نے انکم ٹیکس ایکٹ، 1961 کی دفعات کے تحت ٹرسٹ کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔ اس معاملے میں ایجنسی نے 19 اگست 2026 کو یونیورسٹی اور اس سے وابستہ احاطوں میں تلاشی لی تھی، جہاں سے الیکٹرانک آلات اور قابل اعتراض ریکارڈ ضبط کیے گئے تھے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande