
کرائم برانچ نے غیر قانونی قیام پر پچاس ملزمان کے خلاف عدالت میں چالان پیش کیا
جموں، 28 اکتوبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اسپیشل کرائم ونگ نے پاکستانی شہریوں کے مبینہ غیر قانونی قیام سے متعلق جموں ڈویژن کے چار اضلاع میں درج آٹھ مقدمات میں 50 زندہ ملزمان کے خلاف چالان عدالتوں میں پیش کیے ہیں، جبکہ 15 فوت شدہ افراد کے مبینہ کردار کا بھی ریکارڈ میں ذکر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مقدمات ان پاکستانی شہریوں سے متعلق ہیں، جن میں مقوضہ کشمیر کے رہائشی بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ یہ افراد 1970 کی دہائی کے اواخر سے جائز سفری دستاویزات پر بھارت آئے تھے، لیکن قیام کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود مبینہ طور پر یہیں مقیم رہے۔
کرائم برانچ کی تحقیقات جموں، پونچھ، راجوری اور کٹھوعہ اضلاع میں کی گئیں۔ تحقیقات کے دوران الزام لگایا گیا کہ بعض افراد نے اپنی غیر ملکی شہریت چھپا کر بھارتی شناختی دستاویزات حاصل کیں، جبکہ کچھ نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے سرکاری ملازمتیں بھی حاصل کیں۔ حکام کے مطابق، اسپیشل کرائم ونگ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 16/2024 درج ہونے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ان معاملات کی تحقیقات کیں۔ مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے علاوہ ان کے بھارتی شریکِ حیات، اہل خانہ اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔کرائم برانچ کے مطابق، تمام آٹھ مقدمات اب متعلقہ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستھان سماچار / محمد اصغر