کابینہ نے 10,000 کروڑ روپے کی کنٹینر مینوفیکچرنگ ترغیبی اسکیم کو منظوری دی
نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز ملک میں کنٹینروں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے مجموعی مالیاتی حجم والی کنٹینر مینوفیکچرنگ ترغیبی اسکیم کو منظوری دے دی۔ مالی سال 2039تا2040تک نافذ رہنے والی اس اسکیم کا مقصد ہ
کانہ کنتینر


نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز ملک میں کنٹینروں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے مجموعی مالیاتی حجم والی کنٹینر مینوفیکچرنگ ترغیبی اسکیم کو منظوری دے دی۔ مالی سال 2039تا2040تک نافذ رہنے والی اس اسکیم کا مقصد ہندوستان میں عالمی معیار کا کنٹینر مینوفیکچرنگ نظام تیار کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سے ملک میں کنٹینروں کی پیداواری صلاحیت تقریباً دس گنا بڑھ کر سالانہ 7.5 لاکھ ٹی ای یو ہو جائے گی اور براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے 53 ہزار سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کنٹینر ہندوستان اور دنیا کی تجارت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ تھوک اشیا کو چھوڑ کر برآمدات اور درآمدات کے لیے منتقل کیے جانے والے تقریباً تمام سامان کی نقل و حمل کنٹینروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کنٹینروں کی تیاری چند ہی علاقوں تک محدود ہے اور تقریباً 95 فیصد پیداوار ایک ہی ملک میں ہوتی ہے۔

ویشنو نے کہا، ’’کنٹینر ہندوستان اور پوری دنیا کی تجارت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ تھوک اشیا کو چھوڑ کر برآمد یا درآمد کے لیے منتقل کیے جانے والے تقریباً تمام سامان کنٹینروں میں لے جائے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر کنٹینر سازی کی صنعت چند علاقوں میں مرکوز ہے اور 95 فیصد پیداوار ایک ہی ملک میں ہوتی ہے۔ اس پر حد سے زیادہ انحصار کو دیکھتے ہوئے شپنگ لائنیں اور شپنگ کمپنیاں طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ کوئی دوسرا ملک بھی اس شعبے میں آگے آئے اور کنٹینر سازی میں مضبوط مقام حاصل کرے۔ وزیر اعظم اور کابینہ کی جانب سے آج منظور کی گئی اس اسکیم کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان کنٹینر مینوفیکچرنگ کے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھر سکے۔‘‘

وزیر نے بتایا کہ اس اسکیم کا مجموعی مالیاتی حجم 10,000 کروڑ روپے ہے اور اس کے چار اجزا ہیں۔ پہلے جزو کے تحت سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے لیے گئے اہل قرضوں پر واجب الادا سود میں تین فیصد کی رعایت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جانچ اور سرٹیفکیشن کے لیے بھی اہم مالی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

ویشنو نے کہا، ’’اسکیم کا مجموعی مالیاتی حجم 10,000 کروڑ روپے ہے اور اس کے چار اجزا ہیں۔ پہلے جزو کے تحت سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر واجب الادا سود میں تین فیصد کی رعایت دی جائے گی۔ دوسرا اہم جزو جانچ اور سرٹیفکیشن سے متعلق ہے۔ دنیا بھر کی شپنگ کمپنیاں جن کنٹینروں کا استعمال کرتی ہیں، انہیں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق جانچ کے بعد ہی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ان کا بین الاقوامی معیار پر پورا اترنا اور عالمی ضابطوں کے مطابق سرٹیفکیشن حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس عمل پر اخراجات آتے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے اسکیم کے تحت خصوصی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔‘‘

اسکیم کے تحت نئی مینوفیکچرنگ یونٹیں قائم کرنے اور موجودہ یونٹوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سود پر رعایت کی مد میں 859 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اہل مینوفیکچررز کو نئی یونٹیں قائم کرنے اور موجودہ یونٹوں کی توسیع کے لیے لیے گئے اہل مدتی سرمایہ جاتی قرضوں پر سالانہ تین فیصد سود کی رعایت دی جائے گی۔

اس کے علاوہ، عملیاتی اخراجات کی امداد کے لیے 8,891 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت اہل مینوفیکچررز کو عالمی بحری نقل و حمل کے معیار کے مطابق تیار اور فروخت کیے گئے کنٹینروں پر مالی امداد دی جائے گی۔ اس کا مقصد ملک میں تیار ہونے والے کنٹینروں کی لاگت سے متعلق مشکلات کم کرنا اور انہیں بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانا ہے۔

جانچ اور سرٹیفکیشن کی سہولتوں کی ترقی کے لیے 150 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے کنٹینروں کی مضبوطی اور ٹکاو کی صلاحیت جانچنے جیسی مشترکہ سہولتیں تیار کی جائیں گی۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے ہندوستان کی سالانہ کنٹینر مینوفیکچرنگ صلاحیت تقریباً دس گنا بڑھ کر 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچ سکتی ہے۔ ٹی ای یو کنٹینروں کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی پیمائش کی معیاری اکائی ہے، جو 20 فٹ کے ایک کنٹینر کے برابر ہوتی ہے۔ اس سے ہندوستان کے لیے معیاری شپنگ کنٹینروں کے عالمی برآمدی مرکز کے طور پر ابھرنے کے امکانات بڑھیں گے۔

اسکیم کے نتیجے میں تقریباً 3,000 براہِ راست اور 50 ہزار سے زیادہ بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ اس سے خصوصی اسٹیل، کارنر کاسٹنگ، لکڑی کے ڈھانچے اور پینٹ جیسی معاون صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ کنٹینر مینوفیکچرنگ اسکیم کا اعلان مرکزی بجٹ 2026تا2027 میں کیا گیا تھا۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس پہل سے بحری نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے کی سپلائی چین مضبوط ہوگی اور کنٹینروں کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande