بلوچستان کے دالبندین میں دھماکہ، افغانستان کی فوج کے سابق کمانڈر متین آغا شدید زخمی
کوئٹہ (بلوچستان)، 28 اکتوبر (ہ س)۔ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں واقع کوہ تران میں ہونے والے ایک دھماکے میں افغانستان کی فوج کے سابق کمانڈر متین آغا شدید زخمی ہو گئے۔ اس دھماکے میں افغان فوج کے دو سابق اہلکاروں کی بھی موت ہو گئی۔ صحافی باہوٹ بلوچ
Baloch-blast-X-Afg-com-injured


کوئٹہ (بلوچستان)، 28 اکتوبر (ہ س)۔ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں واقع کوہ تران میں ہونے والے ایک دھماکے میں افغانستان کی فوج کے سابق کمانڈر متین آغا شدید زخمی ہو گئے۔ اس دھماکے میں افغان فوج کے دو سابق اہلکاروں کی بھی موت ہو گئی۔ صحافی باہوٹ بلوچ نے اسپتال میں زیر علاج متین آغا اور جائے وقوع کی تصاویر شیئر کرکے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروپ کا ایک اہم رکن شاہو بھی دھماکے میں مارا گیا۔ بلوچستان میں افغان فوج کے سابق اہلکاروں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ پاکستانی فوج ان اہلکاروں کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ بلوچستان کی آزادی کے لیے سرگرم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق، خضدار میں شفیق مینگل کے گھر پر ہونے والے حملے میں بھی افغان فوج کے سابق اہلکار مارے گئے ہیں۔

بلوچ نیشنلسٹ تنظیم (بی وائی سی) اور بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے بھی صوبے میں افغان فوج کے ریٹائرڈ افسران کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ سابق کمانڈر بلوچستان میں فوجی کارروائیوں اور دیگر جرائم کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔

دوسری جانب، پشتون علاقوں کے مقامی لوگوں نے بھی الزام لگایا ہے کہ افغان کمانڈر فسادات، چوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ تاہم، سرکاری سطح پر ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اور پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ عبدالرحمان کھیتران نے بھی ڈیرہ بگٹی اور برخان کے سرحدی علاقوں میں افغان حکومت کے سابق کمانڈروں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق، پاکستان کی فوجی ایجنسیاں ان سابق فوجیوں کو افغان طالبان کے ساتھ ساتھ بلوچ نیشنل موومنٹ کے خلاف فوجی تیاریوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande