
امراوتی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ نابالغ لڑکی کی زچگی کرانے کے بعد اس کے نومولود بچے کو مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے میں ڈاکٹر ویشالی بھوجنے اور ان کے شوہر پرفل بھوجنے کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس اب تک 8 افراد کے بیانات قلمبند کرچکی ہے، جن میں متعلقہ اسپتال کی نرسیں اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نرسوں کے بیانات سے بعض اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ لڑکی کی زچگی کے وقت شہر کے ایک معروف ڈاکٹر موجود تھے۔ تاہم ان کی شناخت اور معاملے میں کردار کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
فریزرپورہ پولیس اسٹیشن میں 18 اکتوبر کی رات دونوں ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ڈاکٹر ویشالی بھوجنے اور پرفل بھوجنے کے شہر سے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انہیں بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے پولیس نے لک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے، لیکن تاحال ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی ٹھوس اطلاع سامنے نہیں آئی۔ پولیس متعلقہ اسپتال کی نرسوں اور دیگر عملے سے پوچھ گچھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے اگلے روز صبح پولیس نے ڈاکٹر بھوجنے کے اسپتال میں موقع کا پنچ نامہ کیا۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس وقت دونوں ملزمین گھر پر موجود تھے اور پولیس کو معلومات بھی فراہم کیں، جس کے بعد اہلکار واپس چلے گئے۔ بعدازاں پرفل بھوجنے تقریباً شام 6 بجے اور ڈاکٹر ویشالی بھوجنے شام 7 بجے گھر سے نکل گئے۔ رات تقریباً 10 بجے بھوجنے کا بھانجا گھر پہنچا اور پرفل بھوجنے کی والدہ کو اپنے ساتھ لے گیا۔ بعد میں پولیس کی ایک ٹیم اسپتال پہنچی، لیکن وہاں کوئی نہیں ملا۔
اس صورتحال میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ پنچ نامے کے وقت مبینہ طور پر موجود ملزمین کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ زچگی کے دوران معروف ڈاکٹر کی مبینہ موجودگی بھی تحقیقات کا اہم پہلو بن گئی ہے۔ پولیس ملزمین کی تلاش اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستھان سماچار / جاوید این اے