ایران کو نظرانداز کرکے خلیج کی سلامتی ممکن نہیں، عمان نے نئے علاقائی نظام کی تجویز پیش کردی
عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کا زور، آٹھوں خلیجی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کا معاہدہ خطے میں امن کی بنیاد بن سکتا ہے؛ فوجی انحصار کے بجائے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی اپیلمسقط،27اکتوبر(ہ س)۔ عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے خلیجی خطے میں
ایران کو نظرانداز کرکے خلیج کی سلامتی ممکن نہیں، عمان نے نئے علاقائی نظام کی تجویز پیش کردی


عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کا زور، آٹھوں خلیجی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کا معاہدہ خطے میں امن کی بنیاد بن سکتا ہے؛ فوجی انحصار کے بجائے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی اپیلمسقط،27اکتوبر(ہ س)۔ عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نئے علاقائی سلامتی نظام کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو شامل کیے بغیر کوئی بھی نظام پائیدار اور مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری اجتماعی طور پر اٹھانی چاہیے اور بیرونی طاقتوں پر فوجی انحصار کم کرنے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

بدر البوسعیدی نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے گِرٹن کالج میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک، عراق اور ایران کو شامل کرکے ایک مشترکہ سلامتی نظام قائم کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ان آٹھوں ممالک کے درمیان عدم جارحیت کا معاہدہ اس نظام کی بنیادی دستاویز بن سکتا ہے۔عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے معاملات میں ایران کو نظرانداز کرنے کے منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو سلامتی کے نظام سے باہر رکھ کر اسے خطے کے لیے خطرے کے طور پر پیش کرنا مسائل کا حل نہیں، بلکہ اس سے عدم اعتماد اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بدر البوسعیدی نے ایران اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان بنیادی اور مستقل دشمنی کے تصور کو درست قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق عرب اور فارسی قومیں صدیوں سے خلیج کے اطراف رہتی آئی ہیں اور ان کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی طویل تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ خلیج کے ساحلی خطے کا تقریباً نصف حصہ ایران سے وابستہ ہے، اس لیے علاقائی سلامتی کے کسی بھی منصوبے میں ایران کی شمولیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں سلامتی کے مسائل کی ایک وجہ بیرونی طاقتوں کا علاقائی تعلقات پر اثرانداز ہونا بھی ہے۔ ان کے مطابق علاقائی ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری مشترکہ طور پر اٹھانے اور باہمی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس کے باعث بیرونی طاقتوں پر انحصار بڑھتا رہا ہے۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کو سلامتی کے لیے بیرونی دوستوں اور اتحادیوں کی مادی و سیاسی مدد پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی طاقتوں پر فوجی انحصار کے طویل مدتی سیاسی اثرات بھی اہم ہیں، اس لیے علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ خودمختاری اختیار کرنی چاہیے۔

تاہم، بدر البوسعیدی نے واضح کیا کہ اس کا مطلب خطے سے باہر کے ممالک کے ساتھ شراکت داری ختم کرنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسی شراکت داریوں کا مرکز فوجی تعاون کے بجائے اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری اور مشترکہ ترقی ہونا چاہیے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے بدر البوسعیدی نے کہا کہ ماضی میں بات چیت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی تھی اور معاہدے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو معاہدے کے بنیادی نکات اب بھی موجود ہیں، تاہم موجودہ صورتِ حال میں مذاکرات کی میز پر واپسی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے آبنائے ہرمز سے متعلق عارضی انتظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمان نے ایران کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں اس کا خاکہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس انتظام کو عملی شکل دینے کے لیے ایران اور امریکہ دونوں کو لچک دکھانی اور قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔بدر البوسعیدی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ عمان خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ایسے علاقائی نظام کا حامی ہے جس میں ایران سمیت تمام متعلقہ ممالک کو شامل کیا جائے، باہمی عدم جارحیت کو یقینی بنایا جائے اور بیرونی فوجی انحصار کے بجائے سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande