
نئی دہلی، 27 اکتوبر (ہ س)۔ ملک میں اسکولی تعلیم کے شعبے میں جدت اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر شناخت ملی ہے۔ وکست بھارت بلڈتھون-2025 نے ’سب سے بڑے اختراعی حل کے مقابلے‘ کے طور پر باضابطہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک بھر سے مجموعی طور پر 2,87,967 پروجیکٹ پیش کیے گئے۔ اس کامیابی کے موقع پر مرکزی وزارتِ تعلیم بدھ، 28 اکتوبر کو نئی دہلی میں مقابلے کی اختتامی تقریب اور انعامات کی تقسیم کا اہتمام کرے گی۔
تقریب میں مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی قومی سطح پر کامیاب ہونے والے طلبہ اور اختراع کاروں کو اعزاز سے نوازیں گے۔ اس موقع پر قومی سطح کی 10 فاتح ٹیموں اور اختراع کاروں کے جدید حل اور ماڈل بھی پیش کیے جائیں گے۔ تقریب کے دوران گنیز ورلڈ ریکارڈ کا باضابطہ سرٹیفکیٹ پیش کرنے کا پروگرام بھی منعقد ہوگا۔
وکست بھارت بلڈتھون کا مقصد اسکولی طلبہ میں سائنسی تجسس، تخلیقی سوچ، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور کاروباری ذہنیت کو فروغ دینا ہے۔ اس پہل کے تحت طلبہ کو صرف کتابی علم تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی مسائل کے حل تلاش کرنے اور اپنے خیالات کو مفید پروجیکٹس میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی گئی۔
مقابلے میں آئیڈیا اور پروٹوٹائپ، دونوں زمروں کے تحت ملک بھر سے 2,87,967 پروجیکٹ موصول ہوئے۔ اتنی بڑی تعداد میں پروجیکٹس کی شرکت نے اسکولی سطح پر جدت کے تئیں طلبہ کے جوش و جذبے کو ظاہر کیا ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اس کامیابی کے اندراج سے بھارتی طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر شناخت ملی ہے۔
وکست بھارت بلڈتھون چار بنیادی ستونوں پر مرکوز ہے۔ ان میں خود کفیل بھارت، سودیشی، مقامی مصنوعات کو فروغ دینا (ووکل فار لوکل) اور خوش حال بھارت شامل ہیں۔ ان موضوعات کے ذریعے طلبہ کو ملک کی ضروریات کے مطابق نئے خیالات پیش کرنے، مقامی مسائل کے حل تلاش کرنے اور مقامی مصنوعات و ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ترغیب دی گئی۔
اس پہل کا وسیع تر مقصد طلبہ کو محض کلاس روم میں تعلیم حاصل کرنے والوں تک محدود رکھنے کے بجائے مسائل حل کرنے والے، مستقبل کے کاروباری افراد اور اختراع کاروں کے طور پر تیار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان میں ایسے خیالات پروان چڑھانے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے، جو مستقبل میں مفید ٹیکنالوجی، مصنوعات اور خدمات کی شکل اختیار کر سکیں۔
وکست بھارت بلڈتھون کا انعقاد وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے نیتی آیوگ کے اٹل انوویشن مشن اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تعاون سے کیا۔ یہ پہل ملک میں اسکولی سطح پر جدت اور کاروباری صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنے خیالات پیش کرنے، ماڈل تیار کرنے اور عملی حل تیار کرنے کا موقع ملا۔ اس کا مقصد مستقبل میں ایسے نوجوان تیار کرنا ہے، جو ملک کی سائنسی، تکنیکی اور معاشی ترقی میں اپنا تعاون دے سکیں۔
بدھ کو منعقد ہونے والی تقریب میں وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کی جانب سے ’اُلّاس—نیو بھارت خواندگی پروگرام‘ کے تحت اساتذہ کی تربیت دینے والے اداروں کے لیے رہنما اصول بھی جاری کیے جائیں گے۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد متعلقہ اداروں میں پروگرام کے نفاذ کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی اور محکمۂ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے خصوصی مہم 6.0 کے تحت کیے جانے والے کاموں کو بھی پیش کیا جائے گا۔ ان میں الیکٹرانک کچرے (ای ویسٹ) کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اسے جمع کرنے سے متعلق کوششوں کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ اس کا مقصد ماحولیات کے تئیں ذمہ داری اور الیکٹرانک کچرے کے مناسب انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
تقریب میں وزیرِ مملکت برائے تعلیم جینت چودھری کی بھی شرکت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے سکریٹری ٹی کے انل کمار، ایڈیشنل سکریٹری دھیرج ساہو، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر ٹی جی سیتارام سمیت وزارتِ تعلیم کے سینئر افسران بھی موجود رہیں گے۔
پروگرام میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے محکمۂ تعلیم کے نمائندوں، خودمختار اداروں کے سربراہوں اور معاون اداروں کے نمائندوں کی بھی شرکت ہوگی۔
وکست بھارت بلڈتھون کی یہ کامیابی اسکولی طلبہ میں جدت کی ثقافت کو فروغ دینے اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی کوششوں کو نمایاں کرتی ہے۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنے خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کی سمت آگے بڑھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اس کامیابی کا اندراج اور قومی سطح کی 10 فاتح ٹیموں کی اعزازی تقریب اس پہل کو نئی شناخت دے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ پروگرام ملک میں اسکولی تعلیم، سائنسی سوچ اور بنیادی سطح پر جدت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی