
لندن، 27 اکتوبر(ہ س)۔ برطانیہ میں امریکی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ سے متعلق ایک واقعے کی تحقیقات کے دوران دو افراد پر قومی سلامتی قانون کے تحت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق ایک ملزم پر ایران کی خفیہ ایجنسی کی مدد کرنے، جبکہ دوسرے پر برطانیہ کے مفادات کے خلاف مقصد کے لیے ممنوعہ مقام میں داخل ہونے کا الزام ہے۔کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مطابق فردِ جرم کا سامنا کرنے والوں میں 24 سالہ محمد عبدالکریم شامل ہیں، جو برطانوی اور ایرانی دونوں شہریت رکھتے ہیں۔ دوسرے ملزم 24 سالہ نعمان اصغر برطانوی شہری ہیں۔
حکام کے مطابق محمد عبدالکریم پر ایران کی خفیہ ایجنسی کی معاونت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ نعمان اصغر پر برطانیہ کے مفادات کے منافی مقصد کے تحت ممنوعہ مقام میں داخل ہونے کا الزام ہے۔ یہ الزامات عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں اور ان کی بنیاد پر ملزمین کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقے گلوسٹرشائر میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ امریکی فضائیہ کے اہم اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران اس ایئربیس کو امریکی بمبار طیاروں کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔نعمان اصغر کو 27 ستمبر کو ایئربیس کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد مسلح پولیس اہلکاروں اور فوجی ماہرین نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور فوجی ماہرین نے دھماکا خیز مواد کی تلاش بھی کی، جس کے دوران درجنوں مقامی رہائشیوں کو احتیاطی طور پر ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
محمد عبدالکریم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں مزید چھ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق واقعے کے کچھ عرصے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو بھی مذکورہ ایئربیس سے واپس امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم، ان طیاروں کی منتقلی اور زیرِ تفتیش واقعے کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan