
نئی دہلی،27اکتوبر(ہ س)۔
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق اپنی پانچویں رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں اکتوبر 2023 سے فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران غزہ، مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو مبینہ طور پر دانستہ قتل، ظلم و ستم، تشدد اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقاتی کمیشن نے ان واقعات کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قانون کے تناظر میں سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔کمیشن کی رپورٹ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران نے غزہ سمیت پورے خطے کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ بین الاقوامی برادری کے لیے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے حوالے سے اہم دستاویز ہے۔ تاہم، رپورٹ میں درج الزامات، تحقیقاتی نتائج اور کسی عدالت کی جانب سے قانونی طور پر جرم ثابت ہونے کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan