
نئی دہلی، 27 اکتوبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ ہندوستان اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کی کامیابیوں کو اپنانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے، اس کی سمت متعین کرنے اور عالمی مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے مقصد سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی اپنانے، اختراعات کرنے اور ان کی ترقی میں دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم نے یہاں بھارت منڈپم میں منعقدہ ’ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو‘ (ای ایس ٹی آئی سی) 2026 کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی نوجوانوں کی مہارت، خود اعتمادی اور اختراع کے تئیں جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے ملک کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیاں پہلے ہندوستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا مطلب دنیا میں تیار کی گئی ٹیکنالوجی کو اپنانا یا اس میں بہتری لانا ہوتا تھا، لیکن اکیسویں صدی کا ہندوستان نئی سوچ اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کورونا وبا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کے کئی ممالک کو ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا، تب ہندوستان نے اپنی ویکسین تیار کی، بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری کی اور دوسرے ممالک کو بھی ویکسین فراہم کی۔ ان کے مطابق، یہ اکیسویں صدی کے ہندوستان کی سوچ اور خود اعتمادی کی ایک مثال ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان نے پہلی ہی کوشش میں مریخ تک پہنچنے اور چاند کے جنوبی قطب پر اترنے جیسی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جوہری توانائی، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹر جیسے شعبوں میں ہندوستان اپنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔
جوہری توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر جوہری توانائی کی ضرورت ہوگی۔ جوہری ایندھن کی درآمد پر انحصار توانائی کے تحفظ کے لیے ایک چیلنج ہے، اسی لیے ہندوستان اپنی فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل ملک کے 500 میگاواٹ صلاحیت والے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے پہلی بار قابو شدہ جوہری انشقاق کی حالت حاصل کی۔ یہ طویل مدتی توانائی خود کفالت کی سمت میں ایک اہم کامیابی ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان کی ایک بڑی طاقت بڑے پیمانے پر حل تیار کرنے اور انہیں عام لوگوں تک پہنچانے کی صلاحیت ہے۔ ملک کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور 5 جی ٹیکنالوجی اس کی اہم مثالیں ہیں۔ ہندوستان ایسے محفوظ تکنیکی حل تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جنہیں وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور جو حقیقی مسائل حل کرنے میں مددگار ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اکثر طاقت کے مظاہرے یا تنازعات کے ذرائع کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن ہندوستان کا ماننا ہے کہ ان کا مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے۔ کسی ٹیکنالوجی کی کامیابی کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنی جدید ہے، بلکہ اس کی حقیقی افادیت اس بات میں ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کے مسائل کو کس حد تک حل کرتی ہے۔ سائنس کی حقیقی کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب تجربہ گاہ میں تیار کی گئی ٹیکنالوجی عملی طور پر زمین پر اترے اور عام شہریوں کی زندگی میں بہتری لائے۔
مودی نے تحقیق کو کسی ملک کی تکنیکی صلاحیت اور خود انحصاری کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق ہی کے ذریعے ملک اپنے مسائل کے حل تلاش کرنے اور اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خود کفیل بننے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے ’جے وگیان، جے انوسندھان‘ کے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وکست بھارت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ملک کے تحقیقی نظام کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے اور انوسندھان نیشنل ریسرچ فاو¿نڈیشن کے کام کو تیز کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے تحقیق، ترقی اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا اور اب اس کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی اور تجارتی استعمال کے لیے تیار ٹیکنالوجی کو بازار تک پہنچانے کے لیے تقریباً 12,000 کروڑ روپے فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ نجی سرمایہ کار بھی اس پہل میں حصہ لے رہے ہیں اور انہوں نے حکومت کے عزم کے برابر مزید 12,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح ایک سال میں تحقیق، ترقی اور اختراع کے لیے مجموعی طور پر 24,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا عزم سامنے آیا ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان کے تحقیقی نظام کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ ایک دہائی پہلے ملک میں ہر سال 10,000 سے کم پیٹنٹ درخواستیں دائر کی جاتی تھیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ہوگئی۔ انہوں نے اسے ملک میں تحقیق اور اختراع کے تئیں بڑھتی دلچسپی اور سائنسی ثقافت میں تبدیلی کا اشارہ قرار دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سائنس دانوں اور تحقیقی اداروں کو نہ صرف آج کی ضروریات بلکہ مستقبل کے چیلنجوں کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ سیمی کنڈکٹر، کوانٹم ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، جدید مواد، روبوٹکس، خلائی تحقیق، صاف توانائی اور اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جو مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔ ان شعبوں میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینا ہندوستان کی تکنیکی صلاحیت اور خود انحصاری کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستانی اسٹارٹ اپس اور کمپنیاں ٹیکنالوجی کے مختلف ابھرتے ہوئے شعبوں میں مقامی حل تیار کر رہی ہیں۔ ایک اسٹارٹ اپ دماغی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد دینے والی قابل ستعمال ای ای جی (الیکٹرو اینسیفلوگرافی) ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں مقامی طور پر وائرلیس اور سیٹلائٹ مواصلاتی حل تیار کر رہی ہیں۔ غذائیت کے شعبے میں مخصوص غذائی ضروریات پوری کرنے والی مصنوعات بنائی جا رہی ہیں، جبکہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بھی نئی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فولاد کی صنعت سے نکلنے والے فضلے ’اسٹیل سلیگ‘ کے استعمال کے طریقے تلاش کرنے کے لیے بھی بھارت میں تحقیق کی جا رہی ہے۔
خلائی شعبے کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہندوستان کے ایک خلائی اسٹارٹ اپ نے مقامی راکٹ کی مدد سے پہلی ہی کوشش میں ایک سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچایا۔ ہندوستان نے سیٹلائٹس کی ڈاکنگ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلائی سائنس کے شعبے میں ہندوستانی اسٹارٹ اپس نئے حل پیش کر رہے ہیں اور نوجوان سائنس دانوں اور کاروباری افراد کی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان نے اس سال اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کی اور اپنا اے آئی ماڈل بھی پیش کیا۔ ملک میں تیار کردہ سیمی کنڈکٹر چپ کی پہلی کھیپ بیرون ملک پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں بھی بھارت ملک میں دستیاب خام مال کی بنیاد پر اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا نوجوان آبادی والا ملک ہے اور اس کے پاس صلاحیتوں کے ساتھ کچھ نیا کرنے کا عزم بھی ہے۔ ملک کو ایسی نسل تیار کرنی ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں صرف حصہ دار نہ بنے بلکہ ان کی قیادت بھی کرے۔ انہوں نے نوجوانوں سے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عزم ہونا چاہیے: ”ہم یہ کر سکتے ہیں۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد