
بھاگلپور، 27 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع میں این ایچ-80 پر واقع تاریخی کنواں پل گزشتہ تقریباً تین ماہ سے بند پڑا ہے، جس کے باعث لاکھوں لوگوں کو آمدورفت میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھاگلپور، کہلگاؤں، پیربینتی اور جھارکھنڈ کی سرحد کو جوڑنے والے اس اہم راستے کی بندش سے ٹریفک جام، کاروباری مشکلات، طلبہ کی تعلیم اور مریضوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پل کی مرمت میں تاخیر کے خلاف اب عوامی نمائندوں نے بھی احتجاج شروع کر دیا ہے۔
پل کی فوری مرمت اور آمدورفت بحال کرنے کے مطالبے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اور ضلع پریشد رکن جناردن آزاد نے سب ڈویژنل دفتر کے احاطے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ سابق رکن اسمبلی رام ولاس پاسوان سمیت کئی تنظیموں نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اگست کے اوائل میں خستہ حال قرار دیے جانے کے بعد ضلع انتظامیہ نے اس پل پر گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند کر دی تھی۔ تقریباً 60 سال پرانے اس پل کی حالت جانچ رپورٹ کے مطابق انتہائی تشویش ناک ہے۔ پل کا لوہے کا ایکسپینشن جوائنٹ غائب ہو چکا ہے، بیئرنگ بری طرح جام ہے اور جنوبی حصے کے ایک پیلر میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سیلاب کے دوران ایک جانب گنگا کے بیک واٹر اور دوسری جانب جھارکھنڈ کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے تیز پانی کے بہاؤ نے پل کی ساخت کو مزید نقصان پہنچایا۔ فی الحال کنکریٹ ہٹانے اور لوہے کے حصوں کی مرمت کا کام جاری ہے، لیکن اس کی رفتار انتہائی سست ہونے کی شکایت کی جا رہی ہے۔ موقع پر ذمہ دار انجینئر کی موجودگی نہ ہونے کے باعث تعمیراتی کام کے معیار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پل بند ہونے کے سبب کہلگاؤں، پیربینتی، وکرم شیلا اور جھارکھنڈ کے صاحب گنج سمیت آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو بھاگلپور صدر مقام پہنچنے کے لیے 15 سے 20 کلومیٹر کا اضافی سفر طے کرنا پڑ رہا ہے۔ متبادل راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے جام کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ اثر طلبہ پر پڑ رہا ہے۔ سینٹ جوزف، ڈی اے وی اور کیندریہ ودیالیہ جیسے اسکولوں میں پڑھنے والے تقریباً 10 ہزار بچوں کی آمدورفت متاثر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ طلبہ کو راستے میں گاڑیاں تبدیل کرنی پڑ رہی ہیں اور بعض مقامات پر جان خطرے میں ڈال کر پیدل پل پار کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے بچوں کے روزانہ تقریباً دو گھنٹے اضافی ضائع ہو رہے ہیں۔
پل کی بندش نے طبی خدمات کو بھی متاثر کیا ہے۔ سنگین مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو طویل راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے اور سبور-لودھی پور کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورت حال سے مریضوں کو بروقت اسپتال پہنچانے میں دشواری پیدا ہو رہی ہے۔
دوسری جانب کہلگاؤں اور پیربینتی کے مقامی بازاروں میں کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ مرزا چوکی کی پتھر صنعت کو بھی نقصان پہنچنے کی شکایت ہے۔ ٹرکوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔
پل کی بندش کے معاملے پر ضلع کی سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ بھاگلپور کے رکن پارلیمنٹ اجے منڈل نے محکمہ تعمیراتِ سڑک کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ قومی شاہراہ کی دیگر سڑکوں کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر اس پل کو بند کیا گیا۔ حالانکہ اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
مقامی رکن اسمبلی انجینئر شبھانند مکیش نے بھی تکنیکی حکام کی کارکردگی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سال 2021 میں این ایچ-80 کی توسیع کا کام شروع ہونے کے وقت تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرتے ہوئے پرانے پل کی کم چوڑائی کو نظرانداز کیا گیا، جس کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مقامی باشندوں اور احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو فوری طور پر ایک محفوظ اور مضبوط متبادل راستہ فراہم کرنا چاہیے اور پل کی مرمت مقررہ مدت میں مکمل کرکے آمدورفت بحال کرنی چاہیے۔ ان کا انتباہ ہے کہ اگر مطالبات پر جلد کارروائی نہیں کی گئی تو عوامی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
کنواں پل کی بندش اب محض ایک تعمیراتی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ خطے کی آمدورفت، تعلیم، صحت اور کاروبار سے جڑا ایک بڑا عوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے کتنی جلد مؤثر قدم اٹھاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan