بھاگلپور کے دیارہ میں سیلاب کے بعد ابھری امید کی نئی زمین، کسانوں کو بمپر پیداوار کی آس
بھاگلپور، 27 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع میں گنگا کے پانی کی سطح کم ہونے اور ندی کے اپنی پرانی دھار میں واپس لوٹنے کے ساتھ ہی دیارہ علاقوں میں نئی زمین ابھر کر سامنے آنے لگی ہے۔ سیلاب کی تباہی کے بعد ندی سے باہر نکلی اس زمین پر گاد اور سف
بھاگلپور کے دیارہ میں سیلاب کے بعد ابھری امید کی نئی زمین، کسانوں کو بمپر پیداوار کی آس


بھاگلپور، 27 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع میں گنگا کے پانی کی سطح کم ہونے اور ندی کے اپنی پرانی دھار میں واپس لوٹنے کے ساتھ ہی دیارہ علاقوں میں نئی زمین ابھر کر سامنے آنے لگی ہے۔ سیلاب کی تباہی کے بعد ندی سے باہر نکلی اس زمین پر گاد اور سفید ریت کی موٹی تہیں دیکھی جا رہی ہیں۔ کسانوں کو امید ہے کہ یہ نئی زمین آنے والے دنوں میں خوش حالی کا ذریعہ بنے گی۔

مقامی کسانوں کے مطابق ندی کی دھار سے آزاد ہوکر سامنے آنے والی اس زمین کو ’گنگ برار‘ کہا جاتا ہے۔ اگر زمین کی مٹی اور اس میں موجود نمی سازگار رہی تو یہاں دالوں، اناج، موسمی سبزیوں اور نقد آور فصلوں کی اچھی پیداوار ہوسکتی ہے۔ کلی، مسور، مکئی، گیہوں اور مونگ کے علاوہ پرول، کریلا، کدو، ککڑی اور تربوز کی کاشت کے امکانات بھی روشن ہیں۔ بھاگلپور کا پرول اور نوگچھیا کا کیلا پہلے ہی ملک بھر میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس سال گنگا کی طغیانی نے ضلع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ سیلاب کی زد میں ضلع کی 111 پنچایتیں، 447 گاؤں اور 892 وارڈ آئے تھے۔ اس قدرتی آفت سے تقریباً 2 لاکھ 17 ہزار 168 خاندانوں کے 9 لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً 31 ہزار ہیکٹیئر رقبے میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ انتظامیہ نے راگھوپور کو بچانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرکے ہر ممکن کوشش کی، لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں کو پوری طرح روکا نہیں جاسکا۔

جغرافیائی تجزیے اور جی آئی ایس ریموٹ سینسنگ کے اعداد و شمار کے مطابق بھاگلپور کا مجموعی دیارہ علاقہ تقریباً 1,073.04 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں پرانا دیارہ علاقہ چھ بلاکوں میں 203.26 مربع کلومیٹر اور نیا دیارہ علاقہ 13 بلاکوں میں 869.78 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے۔ یہاں کے کسان موسم اور مٹی کی کیفیت کے مطابق روایتی طور پر کاشت کاری کرتے ہیں۔

حالانکہ نئی زمین سے وابستہ امیدوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ بھی موجود ہے۔ گنگا اور کوسی کے دیارہ علاقوں میں کلی کی بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی تک دبنگوں اور جرائم پیشہ عناصر کی بالادستی اور تشدد کسانوں کے لیے سنگین چیلنج بنے رہتے ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی زرخیز زمین کسانوں کی خوش حالی کا ذریعہ بنتی ہے یا دبنگوں کا اثر و رسوخ ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande