
۔ بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج: دربھنگہ ٹیچر سیٹ پر جن سوراج کے ڈاکٹر سریش رائے کامیاب، ترہت سیٹ پر این ڈی اے کا قبضہپٹنہ27اکتوبر (ہ س)۔ بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات میں سارن ٹیچر حلقے سے آزاد امیدوار راہل راج نے کامیابی حاصل کی ہے۔ دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کے بعد راہل راج نے 833 ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی۔ حالانکہ خبر لکھے جانے تک ان کی کامیابی کا باضابطہ اعلان باقی تھا۔ بی جے پی سے بغاوت کرکے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے والے راہل راج کی کامیابی کے بعد ان کے حامیوں اور کارکنوں میں جشن کا ماحول ہے۔
ریویل گنج کے سابق بلاک پرمکھ اور کئی تعلیمی اداروں کے بانی راہل راج نے جیت کے بعد اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانون ساز کونسل میں اساتذہ کے زیر التوا مطالبات کو ترجیحی بنیاد پر اٹھائیں گے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں گے۔
بہار قانون ساز کونسل انتخابات میں ترہت ٹیچر حلقے کے بعد دربھنگہ ٹیچر سیٹ کا نتیجہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ یہاں جن سوراج کے امیدوار ڈاکٹر سریش رائے نے کانگریس کے ڈاکٹر مدن موہن جھا کو 406 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
ڈاکٹر سریش رائے کو 2,593 ووٹ ملے، جبکہ ڈاکٹر مدن موہن جھا کے حق میں 2,187 ووٹ پڑے۔ وہیں رام دیو رائے 1,498 ووٹ حاصل کرکے تیسرے مقام پر رہے۔
بہار قانون ساز کونسل کی پٹنہ ٹیچر حلقۂ انتخاب کی ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات بھی سامنے آگئے ہیں۔ ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کے نول کشور یادو آگے چل رہے تھے، جبکہ آر جے ڈی کے سنجیو کمار پیچھے تھے۔ ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے باعث امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق آگے کے مراحل میں بدلنے کا امکان تھا۔
پٹنہ ٹیچر سیٹ پر ابتدائی رجحانات سامنے آنے کے بعد امیدواروں اور ان کے حامیوں کی نظریں اگلے مراحل کی گنتی پر مرکوز تھیں۔ حتمی نتیجہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور انتخابی افسر کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہونا تھا۔
بہار قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پہلا نتیجہ ترہت ٹیچر حلقۂ انتخاب سے سامنے آیا، جہاں این ڈی اے کے امیدوار نریندر پرساد سنگھ نے کامیابی حاصل کی۔ آزاد امیدوار بھوشن جھا دوسرے مقام پر رہے۔
ووٹوں کی گنتی کے دوران نریندر پرساد سنگھ نے ابتدا سے ہی برتری برقرار رکھی۔ مقررہ مراحل کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ اس طرح آٹھ قانون ساز کونسل نشستوں کے انتخابات میں پہلا نتیجہ این ڈی اے کے حق میں آیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan