
جموں, 27 اکتوبر (ہ س): جموں ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع شیومارکیٹ میں بھیانک آتشزدگی کے باعث متعدد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں، جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ دکاندار وکاس گپتا نے فائر بریگیڈ محکمہ پر تاخیر سے کارروائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت گاڑیاں پہنچ جاتیں تو آس پاس کی دیگر دکانوں کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا تھا۔
دکان نمبر 47 کے مالک وکاس گپتا نے بتایا کہ ان کی دکان میں سردیوں کے کپڑوں کا کافی سامان موجود تھا، لیکن آگ نے ان کی زندگی بھر کی کمائی تباہ کردی۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی اور سردیوں کا موسم تاجروں کے لیے کاروبار کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوتا ہے، ایسے میں اس نقصان نے ان کی روزی روٹی کو شدید متاثر کیا ہے۔
وکاس گپتا کے مطابق، انہوں نے فائر بریگیڈ محکمہ کو کئی مرتبہ فون کیا، لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ اس کے بعد وہ خود اسکوٹی پر فائر بریگیڈ دفتر پہنچے اور گاڑیاں بھیجنے کی درخواست کی۔ ان کا الزام ہے کہ تقریباً سوا سے ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ایک چھوٹی گاڑی موقع پر پہنچی، جس میں پانی کا دباؤ بھی انتہائی کم تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ دکان کی چھت سے شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے واقعے کی تحقیقات کرانے اور فائر بریگیڈ کی مبینہ تاخیر کے لیے ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو آس پاس کی دکانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
ادھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جموں کے صدر ارون گپتا نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے متاثرہ تاجروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے متاثرہ دکانداروں کو فوری مالی امداد فراہم کرنے، خصوصی امدادی پیکیج دینے اور دکانوں کی دوبارہ تعمیر کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
ارون گپتا نے کہا کہ آتشزدگی میں خشک میوہ جات، کپڑوں، سفری سامان اور دیگر اشیاء کی دکانیں تباہ ہوئی ہیں۔ چھوٹے تاجر اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے انہی دکانوں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ دیوالی اور سردیوں کے موسم کے پیش نظر ذخیرہ کیا گیا سامان بھی آگ کی نذر ہوگیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر آف کامرس متاثرہ تاجروں کے مطالبات متعلقہ حکام کے سامنے اٹھاتا رہے گا۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / محمد اصغر