سیوان میں چار گھنٹے تک موبائل ٹاور پر ہائی وولٹیج ڈراما، عاشق کے سمجھانے پر نیچے اتری لڑکی
سیوان، 27 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے سیوان ضلع کے میروا تھانہ علاقے کے پٹکھولی گاؤں میں منگل کی صبح اس وقت افراتفری مچ گئی، جب ایک لڑکی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس واقعے کے دوران پولیس نے اسے بحفاظت نیچے اتارنے کی بھرپ
سیوان میں چار گھنٹے تک موبائل ٹاور پر ہائی وولٹیج ڈراما، عاشق کے سمجھانے پر نیچے اتری لڑکی


سیوان میں چار گھنٹے تک موبائل ٹاور پر ہائی وولٹیج ڈراما، عاشق کے سمجھانے پر نیچے اتری لڑکی


سیوان، 27 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے سیوان ضلع کے میروا تھانہ علاقے کے پٹکھولی گاؤں میں منگل کی صبح اس وقت افراتفری مچ گئی، جب ایک لڑکی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس واقعے کے دوران پولیس نے اسے بحفاظت نیچے اتارنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھی۔ آخرکار اس کے عاشق کے ٹاور پر چڑھ کر سمجھانے کے بعد لڑکی نیچے اترنے پر راضی ہوئی۔

مقامی لوگوں کے مطابق لڑکی صبح تقریباً 4:30 بجے موبائل ٹاور کے قریب گھوم رہی تھی۔ تقریباً پانچ بجے وہ ٹاور پر چڑھ گئی۔ صبح 5:30 بجے کے قریب لوگوں کی نظر اس پر پڑی، جس کے بعد آس پاس کے گاؤں سے بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر میروا تھانہ انچارج راہل کمار پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور لڑکی کو محفوظ طریقے سے نیچے اتارنے کی کوشش شروع کی، لیکن کئی گھنٹے کی کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملی۔

اس کے بعد پولیس نے سورج پورہ گاؤں کے رہنے والے لڑکی کے عاشق کو موقع پر بلایا۔ پہلے اس نے نیچے سے ہی لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں مانی۔ بالآخر عاشق خود ٹاور پر چڑھ گیا اور تقریباً دس منٹ تک اس سے بات چیت کی۔ اس کے سمجھانے پر لڑکی نیچے اتر آئی۔ اس طرح صبح سے جاری ڈرامے کا اختتام تقریباً نو بجے کے بعد ہوا۔ پولیس دونوں کو اپنے ساتھ تھانے لے گئی۔

پولیس کے مطابق دونوں کے درمیان تقریباً چار سال سے عشق چل رہا تھا اور مقامی سطح پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وہ گزشتہ دو برس سے لیو اِن ریلیشن شپ میں رہ رہے تھے۔ لڑکی کی شادی طے ہونے کی بھی اطلاع ہے، تاہم اس کے ٹاور پر چڑھنے کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande