ریس کورس مسجد پر 29 اکتوبر تک انہدامی کارروائی نہیں ہوگی، مرکز کی دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی
نئی دہلی، 27 اکتوبر(ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلی سماعت تک ریس کورس مسجد میں کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جسٹس انیش دیال کی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کرتے ہوئے مرکزی
ریس کورس مسجد پر 29 اکتوبر تک انہدامی کارروائی نہیں ہوگی، مرکز کی دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی


نئی دہلی، 27 اکتوبر(ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلی سماعت تک ریس کورس مسجد میں کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جسٹس انیش دیال کی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او) اور دہلی وقف بورڈ کے ذریعے جواب طلب کیا ہے۔

نمازی سید احمد سعود نے عدالت میں عرضی دائر کرکے مسجد کو ممکنہ انہدام سے بچانے اور نمازیوں کے لیے بلا رکاوٹ رسائی بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ مسجد ریس کورس کلب کے احاطے میں واقع ہے، جو لوک کلیان مارگ پر واقع وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہے۔ کلب کا رقبہ تقریباً 53 ایکڑ بتایا گیا ہے۔عرضی گزار کے وکیل ایم صوفیان صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ مسجد کو منہدم کیے جانے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق 7 اکتوبر کو مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کردی گئی تھی۔ اس پر مرکزی حکومت کے وکیل آشیش دیکشت نے کہا کہ ریس کورس علاقے میں جاری انہدامی کاموں کے پیش نظر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔

عرضی گزار اور مسلم تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد 1977 کے دہلی گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے اور نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے ہیریٹیج رجسٹر میں گریڈ-2 تاریخی عمارت کے طور پر شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیریٹیج کمیٹی کی خصوصی اجازت کے بغیر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ متعلقہ احاطے میں ایک مندر بھی موجود ہے، جس کے بارے میں وہ اگلی سماعت تک ضروری ہدایات حاصل کریں گے۔ عدالت میں اب 29 اکتوبر کو معاملے پر مزید سماعت ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande