
کولکاتا، 27 اکتوبر (ہ س)۔ خلیج بنگال میں تیزی سے طاقتور ہو رہا سمندری طوفان ’ارنب‘ مغربی بنگال سے کافی دور آندھرا پردیش کے ساحل کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود طوفان کے زیرِ اثر ریاست کے موسم میں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق، بدھ کے روز سے جنوبی بنگال میں بارش کا سلسلہ بڑھے گا، جبکہ جمعرات، 29 اکتوبر کو متعدد اضلاع میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران تیز ہوائیں چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی بنگال میں بھی 29 سے 31 اکتوبر تک بارش اور خراب موسم کی پیشین گوئی جاری کی گئی ہے۔
محکمہ کے مطابق، پیر کو طوفان مغربی-وسطی اور اس سے متصل وسطی خلیج بنگال میں موجود تھا۔ یہ تقریباً 13 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب-شمال-مغرب کی سمت آگے بڑھ رہا تھا۔ پیر کی رات تک اس کے شدید طوفان میں تبدیل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ منگل کی دوپہر تک اس کے انتہائی شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح آندھرا پردیش کے باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان اس کے ساحل سے ٹکرانے کا اندازہ ہے۔
طوفان کے اثر سے 28 اکتوبر کو کولکاتا سمیت جنوبی بنگال کے تمام اضلاع میں بارش ہو سکتی ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ، مشرقی میدنی پور، مغربی میدنی پور اور جھاڑگرام میں موسلادھار بارش کا خدشہ ہے۔ اگلے دن موسم کی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
29 اکتوبر کو کولکاتا سمیت جنوبی بنگال کے مختلف اضلاع میں بارش کی شدت میں اضافے کی پیشین گوئی ہے۔ میدنی پور، جھاڑگرام، بانکوڑہ، پرولیا اور مغربی بردوان میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران مختلف اضلاع میں 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کا خدشہ ہے۔
30 اکتوبر کو بارش کی شدت میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، مشرقی بردوان، مغربی بردوان، بیربھوم، مرشدآباد اور ندیا میں گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کا امکان برقرار رہے گا۔
شمالی بنگال کے اضلاع میں بھی سمندری طوفان کے زیرِ اثر موسم خراب رہ سکتا ہے۔ 29 اکتوبر کو دارجلنگ اور جلپائی گوڑی میں شدید بارش کا امکان ہے۔ 30 اکتوبر کو کالمپونگ اور علی پور دوار میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ ہفتہ، 31 اکتوبر کو بارش کے زور میں کمی کا اندازہ ہے۔ اس کے باوجود دارجلنگ، جلپائی گوڑی، کالمپونگ، علی پور دوار اور کوچ بہار میں گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، خلیج بنگال میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 30 ڈگری سیلسیس ہونے کے باعث طوفان کو بھرپور نمی مل رہی ہے۔ اس سے اس کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بالائی فضا میں تیز ہواوں کے سبب اس کے ڈھانچے کے کمزور پڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
پیشین گوئی کے مطابق، طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد بھی اس کا اثر اندرونی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین نے اس کے رخ میں تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے اندازے کے مطابق، طوفان کا مرکز بنگال سے دور رہنے کے باوجود اگلے کئی دنوں تک ریاست میں بارش، تیز ہواوں اور آسمانی بجلی گرنے کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن