مغربی بنگال : کمار ڈیہا کولیئری میں دو سو فٹ نیچے پھنسے 12 مزدور بحفاظت نکال لیے گئے
آسنسول، 27 اکتوبر (ہ س)۔ ای سی ایل کی کمار ڈیہا-اے کولیئری میں پیر کی شام ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ کان میں ڈولی کی لوہے کی تار پھنس جانے کی وجہ سے 12 مزدور تقریباً 200 فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے۔ تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہنے والے بچاو آپری
جائے وقوع کا منظر


آسنسول، 27 اکتوبر (ہ س)۔ ای سی ایل کی کمار ڈیہا-اے کولیئری میں پیر کی شام ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ کان میں ڈولی کی لوہے کی تار پھنس جانے کی وجہ سے 12 مزدور تقریباً 200 فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے۔ تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہنے والے بچاو آپریشن کے بعد منگل کی صبح تقریباً پانچ بجے تمام مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ مزدوروں کے باہر نکلتے ہی ان کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی۔

بتایا گیا ہے کہ پیر کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے کولیئری کے انجن روم میں ڈرم کے پاس ڈولی کی لوہے کی تار پھنس گئی۔ اس کی وجہ سے ڈولی درمیانی راستے میں ہی اٹک گئی۔ اس وقت اس میں ای سی ایل کے 12 ملازمین سوار تھے۔ مزدوروں نے اوپر موجود ملازمین سے آواز کے ذریعے رابطہ برقرار رکھا۔ ادھر، واقعے کی خبر ملتے ہی مزدوروں کے اہلِ خانہ کان کے دہانے پر پہنچ گئے اور پوری رات ان کے بحفاظت باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔

اطلاع ملنے پر پانڈویشور کے رکن اسمبلی جتیندر تیواری جائے وقوع پر پہنچے۔ وہ پوری رات وہاں رکے رہے۔ ان کے ساتھ ای سی ایل کے سینئر افسران، کولیئری ایجنٹ مدھوسودن سنگھ، مینیجر، انتظامی افسران اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں مزدوروں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔

شروعات میں ڈولی کی تار نکالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ماہرین کی مدد سے ڈرم کی مرمت کا کام شروع کیا گیا۔ کافی جدوجہد کے بعد منگل کی صبح تقریباً پانچ بجے ایک ایک کر کے تمام 12 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ تمام مزدوروں کی حالت فی الحال ٹھیک بتائی جا رہی ہے۔ تاہم، طویل عرصے تک کان کے اندر پھنسے رہنے کے باعث انہیں جسمانی اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ احتیاط کے طور پر تمام مزدوروں کو صحت مرکز بھیج کر ان کے طبی معائنے کا انتظام کیا گیا۔

حادثے کے بعد کولیئری کے سیکورٹی انتظامات اور مشینوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ ڈرم کی چند ماہ قبل ہی مرمت کی گئی تھی۔ ایسے میں یہ جانچ کا موضوع ہے کہ مرمت کے باوجود ڈرم میں خرابی کیسے آئی اور کیا دیکھ بھال میں کسی قسم کی لاپرواہی برتی گئی تھی۔

رکن اسمبلی جتیندر تیواری نے واقعے کی تفصیلی جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی، مستقبل میں اس قسم کے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے کان کی مشینوں اور حفاظتی نظام کا جامع آڈٹ کرانے کا مطالبہ بھی اٹھا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande