عمر عبداللہ حکومت کی کابینہ میں کل توسیع، نئے چہروں کی شمولیت متوقع
عمر عبداللہ حکومت کی کابینہ میں کل توسیع، نئے چہروں کی شمولیت متوقع سری نگر، 26 اکتوبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت کی کابینہ میں پہلی توسیع منگل کے روز ہوگی۔ حلف برداری کی تقریب صبح ساڑھے دس بجے یہاں لوک ب
Omar Abdullah


عمر عبداللہ حکومت کی کابینہ میں کل توسیع، نئے چہروں کی شمولیت متوقع

سری نگر، 26 اکتوبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت کی کابینہ میں پہلی توسیع منگل کے روز ہوگی۔ حلف برداری کی تقریب صبح ساڑھے دس بجے یہاں لوک بھون میں منعقد ہوگی، جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نئے وزراء سے عہدے اور رازداری کا حلف لیں گے۔ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی تقریب میں موجود رہیں گے جبکہ اراکین اسمبلی کو شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس توسیع کا مقصد علاقائی توازن کو یقینی بنانا ہے اور امکان ہے کہ پونچھ، رام بن، کٹھوعہ اور شمالی کشمیر کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی۔ کشمیر خطے سے اسمبلی کے موجودہ اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو کابینہ میں شامل کر کے اہم قلمدان سونپے جا سکتے ہیں، جن میں خزانہ بھی شامل ہے، جو فی الحال وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔ توقع ہے کہ مبارک گل ان کی جگہ اسمبلی کے نئے اسپیکر بنیں گے۔

کشمیر خطے کے جو دیگر اراکین اسمبلی کابینہ کے عہدوں کے مضبوط امیدوار ہیں، ان میں سلمان ساگر، نذیر گریزی، ہلال اکبر لون اور تنویر صادق شامل ہیں۔ جموں خطے سے دو نئے چہرے بھی کابینہ میں شامل کیے جا سکتے ہیں، جن میں پونچھ کے اعجاز احمد جان اور رام بن کے ارجن سنگھ راجو کے نام سنجیدگی سے زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ، کٹھوعہ ضلع کے بنی اسمبلی حلقے کے آزاد رکن اسمبلی ڈاکٹر رامیشور سنگھ کو وزیر بنائے جانے کا امکان ہے۔

مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے قانونی ڈھانچے کے تحت کونسل آف منسٹرز کی تعداد 90 رکنی قانون ساز اسمبلی کے 10 فیصد تک محدود ہے، یعنی وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ نو وزراء۔ فی الحال عمر عبداللہ کی کابینہ میں کشمیر اور جموں کی نمائندگی برابر ہے۔ وہ خود، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری اور چار کابینہ وزراء پر مشتمل چھ رکنی کونسل آف منسٹرز کی قیادت کر رہے ہیں، جس کے حساب سے تین جگہیں خالی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز لوک بھون میں لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کر کے کابینہ میں مجوزہ شمولیتوں اور ردوبدل کی فہرست انہیں سونپ دی ہے۔ ملاقات کے بعد انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ انہوں نے کابینہ میں توسیع کے لیے اگلے ہفتے کے پہلے دو تین دنوں میں لیفٹیننٹ گورنر سے وقت مانگا ہے۔ عمر عبداللہ نے اراکین اسمبلی کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ وزارت کے لیے سفارشیں یا لابنگ نہ کریں۔

انہوں نے گزشتہ روز نامہ نگاروں کو بتایا: ’’میں اپنے ساتھیوں سے بس یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ردوبدل اگلے ہفتے ہو جائے گا۔ فہرست فاروق عبداللہ صاحب سے مشاورت کے بعد تیار ہے۔ ان کے دروازے پر، میرے دروازے پر یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے کہ کون وزیر بنے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’’میں اپنے ساتھیوں سے صبر کی درخواست کرتا ہوں۔ فیصلہ اللہ کرے گا، پھر ہم کریں گے۔ کچھ ساتھی اس طرح پیغام بھیج رہے ہیں جیسے کتابیں لکھ رہے ہوں، گویا میں انہیں جانتا ہی نہیں۔ وہ مجھے اپنا بایو ڈیٹا بھیج رہے ہیں۔ میں انہیں بھی جانتا ہوں اور ان کے بایو ڈیٹا کو بھی۔ مجھے واٹس ایپ نہ بھیجیں۔ میرے دروازے پر دستک نہ دیں۔ فیصلہ ہو چکا ہے اور دو سے تین دن میں اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘‘

بعض رپورٹوں کے مطابق، مجوزہ ردوبدل میں جموں خطے کے کم از کم ایک وزیر کو ہٹایا جا سکتا ہے اور یہ تعداد دو تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ان میں ستیش شرما اور جاوید احمد رانا کے عہدے خطرے میں بتائے جا رہے ہیں، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کے پاس موجود قلمدان کم کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ تقسیم کے مطابق، وزیر اعلیٰ کے پاس وہ تمام محکمے ہیں جو کسی دوسرے وزیر کو الاٹ نہیں کیے گئے، جن میں خزانہ، محصولات، مہمان نوازی و پروٹوکول اور اطلاعات شامل ہیں۔ سریندر چودھری کے پاس پبلک ورکس (سڑکیں اور عمارتیں)، صنعت و تجارت، کان کنی، محنت و روزگار اور مہارت کی ترقی کے محکمے ہیں۔ سکینہ ایتو صحت و طبی تعلیم، اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود کی ذمہ دار ہیں، جبکہ جاوید احمد رانا جل شکتی، جنگلات، ماحولیات اور قبائلی امور کے انچارج ہیں۔

جاوید احمد ڈار زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، امداد باہمی اور انتخابات کے محکموں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جبکہ ستیش شرما کے پاس خوراک، شہری رسد و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، امور نوجواناں و کھیل اور انتظامی اصلاحات، معائنہ و تربیت کے محکمے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande