
بگہا، 26 اکتوبر(ہ س)۔ مغربی چمپارن کے بگہا شہر کے نرئی پور میں واقع 104 سال پرانے تاریخی سرکاری اسکول میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اسکول میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے بینچ اور ڈیسک تک دستیاب نہیں ہیں۔ پینے کے پانی، بیت الخلا اور کچن شیڈ جیسی ضروری سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ گرمی، بارش اور سردی کے موسم میں بھی بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
سال 1922 میں قائم اس اسکول سے کئی اہم شخصیات نے تعلیم حاصل کی، جنہوں نے سیاست، سماجی خدمت، تعلیم اور انتظامی شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے باوجود اسکول کی موجودہ بدحالی تعلیمی نظام اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوال کھڑے کر رہی ہے۔
اسکول کے سابق طلبہ 92 سالہ جگدمبا مشرا اور 85 سالہ جلیل میاں نے بتایا کہ آزادی کے بعد اسکول کے سرکاری ہونے پر رام دھاری سنگھ پہلے سرکاری استاد کے طور پر یہاں آئے تھے۔ علاقے کے بزرگ انہیں آج بھی احترام سے ’بڑھوا گرو جی‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی سختی، نظم و ضبط اور تعلیم کے تئیں لگن آج بھی سابق طلبہ کے ذہنوں میں زندہ ہے۔
اس تاریخی ادارے سے حکومت بہارکے سابق کابینہ وزیر آنجہانی پورنماسی رام، سابق چیئرمین رنجیت راؤ، سابق قانون ساز کونسلر راجیش رام، سماجی کارکن آنجہانی اکھلیشور مشرا اور ڈگری کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر روی کیش مشرا سمیت کئی اہم شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے درجنوں افراد استاد، سرکاری افسر اور ملازم بھی بنے۔
اسکول کے سابق طالب علم اور ریٹائرڈ استاد رمیش مشرا نے بتایا کہ ان کے والد نے بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور اسکول میں تعمیراتی کام بھی کرائے تھے۔ ان کے مطابق اسکول کی بدحالی سے متعلق محکمہ تعلیم اور عوامی نمائندوں کو کئی مرتبہ اطلاع دی گئی، لیکن اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
رمیش مشرا نے کہا کہ سردی شروع ہونے سے پہلے اگر اسکول میں بینچ، ڈیسک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں تو عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسکول میں زیادہ تر غریب اور مزدور طبقے کے بچے پڑھتے ہیں، اسی وجہ سے ادارے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ شہر کے اعلیٰ اور متوسط طبقے کے بیشتر بچے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سرکاری اسکولوں میں سہولیات بچوں کی معاشی حیثیت کے مطابق فراہم کی جائیں گی؟ تعلیم کا حق ہر بچے کو یکساں مواقع دینے کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے غریب بچوں کو بھی بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری سہولیات ملنی چاہئیں۔
اب محکمہ تعلیم مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسکول کا معائنہ کرکے بینچ، ڈیسک، صاف پینے کا پانی، بیت الخلا اور کچن شیڈ سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ اس تاریخی ادارے میں زیر تعلیم بچوں کو بھی بہتر مستقبل بنانے کا موقع مل سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan