
تل ابیب،26اکتوبر(ہ س)۔اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی شکل میں سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ تازہ انتخابی جائزوں میں آئزنکوٹ کی جماعت ’یاشار‘ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے آگے دکھائی دے رہی ہے، تاہم کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح برتری حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس لیے انتخابی نتیجے کے بعد حکومت سازی بھی بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
گادی آئزنکوٹ 66 سالہ سابق فوجی سربراہ ہیں، جنہوں نے 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری سنبھالی۔ مراکش سے اسرائیل ہجرت کرنے والے والدین کے گھر پیدا ہونے والے آئزنکوٹ نے اپنی زندگی کے تقریباً چار دہائیاں فوج میں گزاریں۔ ان کا خاندانی پس منظر نیتن یاہو سے مختلف ہے، اور کامیابی کی صورت میں وہ اسرائیل کے پہلے مزراحی یہودی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ مزراحی یہودیوں کی تاریخی جڑیں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہیں، جبکہ اشکنازی یہودیوں کا تعلق تاریخی طور پر یورپ سے رہا ہے۔
آئزنکوٹ نے 2022 میں سابق آرمی چیف بینی گینٹز کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی ہنگامی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے، لیکن جنگ کے مقاصد اور آئندہ کی حکمت عملی پر اختلافات کے باعث جون 2024 میں کابینہ چھوڑ دی۔ وہ سخت سکیورٹی پالیسی کے حامی ہیں، حماس کی فوجی صلاحیت ختم کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔
آئزنکوٹ کی انتخابی مہم اس وقت تنازع کا شکار ہوگئی جب نیتن یاہو کے حامی سمجھے جانے والے ٹی وی میزبان ینون میگال نے انہیں ’’بندر‘‘ کہا اور دعویٰ کیا کہ اشکنازی اشرافیہ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس بیان کو آئزنکوٹ کے مراکشی اور مزراحی پس منظر کے خلاف نسلی توہین قرار دے کر شدید تنقید کی گئی۔ نیتن یاہو نے بھی اس تبصرے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، تاہم سیاسی تنازع ختم نہیں ہوا۔
آئزنکوٹ کے خاندان نے بھی غزہ جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔ دسمبر 2023 میں ان کا 25 سالہ بیٹا گال غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوگیا، جبکہ ان کے دو بھتیجے بھی جنگ میں مارے گئے۔ اس پس منظر نے انہیں ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جس کا خاندان بھی جنگ کی قیمت ادا کر چکا ہے۔
تازہ جائزوں میں آئزنکوٹ کی جماعت کو تقریباً 22 سے 23 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ لیکوڈ کے حصے میں تقریباً 20 سے 21 نشستیں آنے کا اندازہ ہے۔ لیکن اسرائیل کے سیاسی نظام میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں۔ نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور اپوزیشن، دونوں کو اکثریت کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت درکار ہوسکتی ہے۔ آئزنکوٹ کے لیے ایک اہم مشکل یہ بھی ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے معاملے میں محتاط موقف رکھتے ہیں، جس سے اپوزیشن کے لیے اکثریت حاصل کرنا پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
27 اکتوبر کا انتخاب صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی، 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد جواب دہی اور نسلی نمائندگی کی بحث کو بھی نئی سمت دے سکتا ہے۔ تاہم آئزنکوٹ کی ممکنہ کامیابی کے باوجود حکومت کی تشکیل کا حتمی فیصلہ انتخابی نتائج اور اتحادی جماعتوں کے مذاکرات پر منحصر ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan