
کاٹھمنڈو، 25 اکتوبر (ہ س)۔
نیپال میں 26 اگست کو ر سووا-بھوٹے کوسی ندی میں آنے والے سیلاب کے باعث عام لوگوں کی نجی املاک کو تقریباً 79 ارب 17 کروڑ نیپالی روپے کا نقصان پہنچنے کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا ہے۔
قومی منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے قدرتی آفت کے بعد ضروریات کے جائزے (پی ڈی این اے) کے تحت کیے گئے خاندانی سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، لوگوں کے مکانات، زمین، کاروبار اور دیگر نجی املاک کو مجموعی طور پر 79 ارب 17 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس تخمینے میں سڑکوں، پن بجلی سمیت بنیادی ڈھانچے، پیداواری شعبے، سماجی شعبے اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
کمیشن کے مطابق، مجموعی نقصان میں سے 69 ارب 57 کروڑ روپے خاندانوں کی املاک کو جبکہ 9 ارب 60 کروڑ روپے کاروبار اور تجارتی اداروں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ نجی املاک کو ہونے والے مجموعی نقصان میں تقریباً 88 فیصد حصہ خاندانوں کی املاک کا ہے۔
سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لینے، مالی ضروریات کا تخمینہ لگانے اور تعمیرِ نو کے منصوبے سمیت پی ڈی این اے رپورٹ تیار کرنے کے لیے کابینہ نے 12 بھادر کو فیصلہ کیا تھا۔ اسی فیصلے کے مطابق کمیشن نے سوال نامہ تیار کرکے متاثرہ علاقوں سے اعداد و شمار جمع کیے۔
کمیشن کے مطابق، اس کام کے لیے مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین تعینات کیے گئے تھے۔ مجموعی طور پر 58 ٹیموں میں 156 تکنیکی اور انتظامی ملازمین کو شامل کیا گیا۔ کام یا سفر کے سلسلے میں متاثرہ علاقوں سے باہر رہنے والے افراد کے خاندانوں کی تفصیلات متعلقہ مقامی اداروں کے ذریعے حاصل کرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔
کمیشن نے بتایا کہ پی ڈی این اے کے لیے جمع کیے گئے اعداد و شمار کی ترتیب اور تجزیے کا کام جاری ہے۔
سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، ر سووا، نوواکوٹ، دھادنگ اور گورکھا اضلاع کے 15 مقامی اداروں میں 6,817 خاندان اور 1,638 کاروباری ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب سے مجموعی طور پر 32,872 افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں 16,714 مرد، 16,080 خواتین اور 78 ایسے افراد شامل ہیں جن کی جنس دیگر درج کی گئی ہے یا جن کی صنفی شناخت واضح نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ