
کاٹھمنڈو، 25 اکتوبر(ہ س)۔
نیپال کی حکومت نے سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے لیے چار برفانی جھیلوں کی سطح آب کم کرنے اور چھ دریائی طاس میں پیشگی انتباہی نظام کو وسعت دینے کا منصوبہ آگے بڑھایا ہے۔ وزارت توانائی، آبی وسائل اور آب پاشی کے تحت مرکز برائے ہائیڈرولوجی و آبی وسائل کی تحقیق اور محکمہ موسمیات نے اتوار کو الگ الگ وائٹ پیپر جاری کیے ہیں۔
ان وائٹ پیپرز میں برفانی جھیلوں سے آنے والے سیلاب کے خطرات کم کرنے، موسم کی پیش گوئی کو بہتر بنانے اور خطرے سے دوچار آبادیوں تک بروقت اطلاعات پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت نگرانی کے آلات کی تعداد بڑھانے سے لے کر موسم کی پیش گوئی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال تک کے پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔دستاویزات میں ان منصوبوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں بجٹ کی مسلسل دستیابی، تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی اور آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال کو اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
برفانی جھیلوں سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے مجوزہ ’گلوف سنجیونی‘ منصوبے کے تحت نیپال کے ضلع منانگ میں واقع تھولاگی، ضلع سنکھووا سبھا کی لوئر بارون اور ضلع سولکھمبو کی لومڈنگ چھو اور ہونگو-2 برفانی جھیلوں کی سطح آب کم کرنے کا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک آنے والے سیلاب کو انگریزی میں گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ(گلوف) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے سیلاب سے نشیبی علاقوں میں رہنے والی آبادی، بنیادی ڈھانچے اور پن بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔نیپال میں برفانی جھیلوں کے خطرات کو کم کرنے اور دریائی طاس میں پیشگی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے ان اقدامات کا مقصد ممکنہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو کم کرنا اور متاثرہ علاقوں تک بروقت اطلاع پہنچانے کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan