کشمیر میراتھن میں دوڑنے والے لوگ جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر متعارف کرائیں گے:لیفٹیننٹ گورنر
سرینگر، 25 اکتوبر (ہ س)۔ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا کہ کشمیر میراتھن‘ مقامی کھیلوں کی صلاحیتوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دوڑنے والے لوگ جلد ہی قومی اور بین ا
تصویر


سرینگر، 25 اکتوبر (ہ س)۔ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا کہ کشمیر میراتھن‘ مقامی کھیلوں کی صلاحیتوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دوڑنے والے لوگ جلد ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پراپنی پہچان بنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق

سرینگرکے پولوویوگراؤنڈ میں ’کشمیر میراتھن 2026‘ کی انعامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں صلاحیت موجود ہے، لیکن اکثر اسے خود کو ثابت کرنے کے لیے مناسب مواقع نہیں مل پاتے۔انہوں نے کہا کہ یونین ٹیریٹری کے کسی بھی ضلع سےچاہے وہ اننت ناگ ہو، پلوامہ ہو یا بڈگام ہو ایک چیمپئن میراتھن رنر سامنے آ سکتا ہے۔جیتنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر نے ان شرکاء کی بھی تعریف کی جنہوں نے تمغے تو حاصل نہیں کیے لیکن دوڑ مکمل کی؛ انہوں نے کہا کہ ان کا عزم اور استقامت بھی اتنی ہی ستائش کے لائق ہے۔انہوں نے کہا میں ان لوگوں سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہیں تمغہ نہیں ملا۔ آپ صرف شرکاء ہی نہیں ہیں، بلکہ آپ بھی فاتح ہیں۔ وہ لوگ جو مسلسل دوڑتے رہے اور کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد اختتامی لکیرعبور کی، وہ ہمارے سلام کے مستحق ہیں۔

سنہا نے کہا کہ کشمیر میراتھن نے ابھرتے ہوئے رنرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر ایسے ایتھلیٹس پیدا کرے گا جو میراتھن دوڑ میں اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہامجھے یقین ہے کہ میراتھن کی دنیا میں اگلا بڑا نام جموں و کشمیر سے ہی ابھرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے جیتنے والوں پر زور دیا کہ وہ نئے آنے والے رنرز کی رہنمائی اور سرپرستی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابیاں مزید نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کر سکتی ہیں تاکہ وہ اپنے خوابوں اور عزائم کو پورا کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی نوجوان شرکاء نے اس میراتھن کو ایک نئے سفر کا آغاز قرار دیا ہے، اور امید ظاہر کی کہ یہ تقریب خطے میں کھیلوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔نوجوان ٹیلنٹ کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہوتے ہوئے سنہا نے کہاپھول کھلنے والے ہیں، اور وہ ضرور کھلیں گے۔ سنہا نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ’کشمیر میراتھن‘ نے بین الاقوامی میراتھن اور دوڑ مقابلوں کے کیلنڈر میں اپنی جگہ بنا لی ہے، اور انہوں نے اسے جموں و کشمیر کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے محکمہ سیاحت، پولیس، طبی ٹیموں، رضاکاروں اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو اس تقریب کے کامیاب انعقاد میں ان کے تعاون پر مبارکباد دی۔

لیفٹیننٹ گورنر نے لداخ سے تعلق رکھنے والے اس فرد کے کردار کو بھی سراہا جس کے ذہن میں یہ میراتھن منعقد کرنے کا خیال آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ایک ایسے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر گیا ہے جو کھیلوں کے ذریعے لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔سنہا نے کہا کہ میراتھن محض کھیلوں کا ایک مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ تندرستی، صحت مند طرز زندگی اور جسمانی سرگرمیوں میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینے کا ایک موقع بھی ہے۔ لوگوں کی جانب سے موبائل فون اور اسکرینوں پر زیادہ وقت گزارنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے روزمرہ کی زندگی میں جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے لیے میراتھن میں حصہ لینا ضروری نہیں ہے، لیکن لوگوں کو چاہیے کہ وہ کھیل اور ورزش کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’کشمیر میراتھن‘ ہر عمر کے لوگوں کو، بشمول 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو، جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہونے کی ترغیب دے گی۔نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے سنہا نے کہا کہ میراتھن عزم، صبر اور چیلنجوں پر قابو پانے کے بارے میں اہم اسباق سکھاتی ہے، جنہیں زندگی میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔نہوں نے کہا کہ دوڑ کے دوران اکثر کھلاڑی تھکن اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اختتامی لکیر کی جانب بڑھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بھی زندگی میں ناکامیوں یا رکاوٹوں کا سامنا کرتے وقت یہی رویہ اپنانا چاہیے۔ میراتھن میں کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا، اور زندگی میں بھی کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا۔سنہا نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مواقع کو پہچانیں، ذمہ داری اٹھائیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے چیلنجوں کو مواقع میں بدل دیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کو سنوارنے میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے، اور ان سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں جو اعتماد، توانائی اور کھیلوں کی مضبوط ثقافت سے عبارت ہو۔

لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ ’کشمیر میراتھن‘ ملک اور بیرونِ ملک سے دوڑنے والوں (رنرز) کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہے گی، اور ساتھ ہی جموں و کشمیر کو کھیلوں اور سیاحت کے ایک مرکز کے طور پر فروغ دے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande